اکثر تلقین کی جاتی ہے کہ روحانیت کی ترقی کے لئے وظائف، چلے اور دیگر اعمال صرف با شرع اور کامل شیخ کی نگرانی میں اجازت کے ساتھ کئے جائیں۔کیا ایسے چلے اور وظائف سیکھنا جائز ہےجن سے روحانی صلاحیتوں میں ترقی ہو اور آج کل ایسے اساتذہ کی تلاش کافی مشکل ہے ،کیونکہ ان کی علمی قابلیت اور اتباع شریعت کا تعین وقت طلب امر ہے اوران امور میں مشہور اکثر حضرات کا تعلق بدعتی فرقوں سے ہے،تو کیا آپ کچھ ایسے اساتذہ کی نشاندہی فرما سکتے ہیں کہ جن کی خدمت میں انسان شریعت کی روشنی میں روحانی علوم ، وظائف اور چلہ وغیرہ کر سکے۔ جزاک اللہ!
چلہ کشی سے مقصود اگر اصلاحِ احوال کیلئے چالیس دن خلوت میں عبادت ہو تو اس کی شرعاً گنجائش ہے، بشرطیکہ اس میں کوئی اور منکر نہ پایا جائے، اس طرح مستند اور متبعِ شریعت شیخ کی اجازت سے مختلف اعمال و وظائف بھی کئے جاسکتے ہیں، جبکہ ایسے شیخ کی تلاش اپنے مزاج و احوال کو سامنے رکھتے ہوئے کرلی جائے تو زیادہ بہتر ہے۔
کما فی القول الجمیل : فشرط من ياخذ البيعة أمور أحدها : علم الكتاب والسنة والشرط الثاني: العدالة والتقوى والشرط الثالث: أن يكون زاهدا في الدنيا راغباً في الآخرت ، والشرط الرابع أن يكون امرا با لمعروف ناهيا عن المنكر، والشرط الخامس: أن يكون صحب المشايخ متادب بهم دهرا طويلا واخذ منهم نور الباطن والسكنية (القول الجميل للشاه ولى الله رحمه الله الفصل الثاني/ ص: ۲۰)۔