کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ میں مسمات ۔۔۔۔بنت۔۔۔ کا نکاح مسمی۔۔۔ولد۔۔۔کے ساتھ آج سے تقریبا چودہ سال قبل ہو گیا تھا ،اس نکاح سے ہماری دو بچیاں بھی ہیں، میرے شوہر نے دوبئی سے مجھے واٹس ایپ وائس میسج پر تین مرتبہ سے زائد طلاق دی ہے کہ آپ کے بھائی کو فون کیا ہے" تو مجھ پر طلاق ہو
"ستا رور تہ مے فون اوکو تہ پہ ما طلاقہ یے تہ پہ ما طلاقہ یے تہ پہ ما طلاقہ یے، یو پیرہ نہ لس پیرے نہ پنزوست پیرے طلاقہ یے"
(ترجمہ:میں نے تیرے بھائی کو فون کر لیا ہے تو مجھ پر طلاق ہے طلاق ہے طلاق ہے،ایک دفعہ نہیں ،دس دفعہ نہیں بلکہ پچاس دفعہ ہو)
اب معلوم کرنا ہے کہ اس صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوئی ہیں، اور اب آئندہ ہمارے لیے کیا حکم ہے؟ نوٹ: وائس میسج موجود ہے۔
واضح ہو کہ جس طرح زبانی یا تحریری طور پر طلاق دینے سے شرعا طلاق واقع ہو جاتی ہے، اسی طرح وائس نوٹ کے ذریعہ طلاق کا میسج کرنے سے بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں سائلہ کے شوہر نے اسے غصے کی حالت میں تین مرتبہ سے زائد مذکور الفاظ " ستا رور تہ مے فون اوکو تہ پہ ما طلاقہ یے تہ پہ ما طلاقہ یے تہ پہ ما طلاقہ یےالخ" (ترجمہ:میں نے تیرے بھائی کو فون کر لیا ہے تو مجھ پر طلاق ہے طلاق ہے طلاق ہے،ایک دفعہ نہیں ،دس دفعہ نہیں بلکہ پچاس دفعہ ہو)کہہ دیے تو اس سے سائلہ پر تین طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، جبکہ بقیہ طلاقیں محل نہ ہونے کی وجہ سے لغو ہوگئی ہیں ، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا، جبکہ سائلہ عدت کے بعد دوسری جگہ اپنی مرضی سے نکاح کرنے میں آزاد ہے۔
کما قال اللہ تعالی: (فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجًا غيره)۔ (البقرہ :230)-
و فی الدر المختار: باب الصريح (صريحه ما لم يستعمل إلا فيه) و لو بالفارسية (كطلقتك و أنت طالق و مطلقة)الخ۔ (كتاب الطلاق، باب صريح الطلاق، ج: 3، ص: 248 - 251 ، ط: سعيد)۔
و فی الرد : و للحافظ ابن القيم الحنبلي رسالة في طلاق الغضبان قال فيها: إنه على ثلاثة أقسام: أحدها أن يحصل له مبادئ الغضب بحيث لا يتغير عقله و يعلم ما يقول و يقصده و هذا لا إشكال فيه الخ۔ (كتاب الطلاق، ج:3، ص:244، ط: سعید)۔
و فی الہدایۃ : و إن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا و يدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها الخ۔ (كتاب الطلاق، فصل فيما تحل به المطلقة، ج:2، ص:257، ط: دار إحياء التراث العربي)۔
و فی الفتاوی الھندیۃ: أحق الناس بحضانة الصغير حال قيام النكاح أو بعد الفرقة الأم ، و إن لم يكن له أم تستحق الحضانة بأن كانت غير أهل للحضانة أو متزوجة بغير محرم أو ماتت فأم الأم أولى من كل واحدة ، و إن علت ، فإن لم يكن للأم أم فأم الأب أولى ممن سواها ، و إن علت كذا في فتح القدير الخ۔ (1/541)۔
و فیھا ایضاً : نفقة الأولاد الصغار على الأب لا يشاركه فيها أحد كذا في الجوهرة النيرة الخ۔ (کتاب الطلاق الباب السادس عشرفی الحضانة،ج:1، ص:561، ط: رشيديه)۔
و فیھا ایضاً: و اذا استغنی الغلام و بلغت الجاریۃ فالعصبۃ اولیٰ یقدم الاقرب فالاقرب الخ۔ (کتاب الطلاق الباب السادس عشرفی الحضانة،ج:1، ص:566، ط: رشيديه)۔