میں نے اپنی بیوی کو لڑائی میں کہا کہ ”اگر تم اپنے میکے کے گھر جاؤگی تو تمہیں طلاق واقع ہوجائے گی“ تو کیااب میکے جانے سے اس پر طلاق واقع ہوجائے گی یا نہیں؟ جبکہ سائل سے بذریعہ فون معلوم کیا تو اس نے کہا کہ میری نیت اس سے طلاق کی نہیں تھی،بلکہ بیوی کو دھمکی دینامقصود تھا۔
واضح ہوکہ مذکور الفاظ ”اگر تم اپنی میکے کے گھر جاؤگی تو تمہیں طلاق واقع ہوجائے گی“یہ جملہ ذومعنی ہے،یہ وعدۂ طلاق بھی ہوسکتاہےیعنی اگر میکے گئی تو طلاق دے دوں گا،دوسرا پہلواس میں تعلیق کا ہے کہ اگر میکے گئی تو تجھے طلاق ہے،لہذا صورت مسئولہ میں اس کے شرعی حکم کا دارومدار سائل کی نیت پر ہوگا،اگرواقعۃً سائل کی نیت لڑائی کے دوران مذکور الفاظ”اگر تم اپنی میکے کے گھر جاؤگی تو تمہیں طلاق واقع ہوجائےگی“سے طلاق کی نیت نہیں تھی،بلکہ دھمکی کی نیت تھی تو اس صورت میں سائل کی بیوی پر میکے جانے کی وجہ سے طلاق واقع نہیں ہوگی۔
کما فی التاتارخانیۃ: إذا قال لامرأتہ فی حالۃ الغضب إن فعلت کذا إلی خمسین سنۃ تصیری مطلقۃ متی“ و أراد بذلک تخویفھا ففعلت ذلک الفعل قبل انقضاء المدۃ التی ذکرھا فإنہ یسأل الزوج ھل کان حلف بطلاقھا ؟ فإن أخبر أنہ کان حلف یعمل بخبرہ ویحکم بوقوع الطلاق علیھا وإن أخبر أنہ لم یحلف قبل قولہ الخ (الفصل السابع عشر فی الأیمان بالطلاق، ج: 5، ص: 78، ط: رشیدیہ)۔
وفی الھندیۃ : واذا اضافہ الی الشرط وقع عقیب الشرط اتفاقاً مثل ان یقول لأمرأتہ ان دخلت الدار فأنت طالق الخ ( فصل فی تعلیق الطلاق الخ ، ج 1 ، ص 420 ، ط : ماجدیہ ) ۔
وفی الھندیۃ: قالت لزوجھا من بانوتونمی باشم فقال الزوج مباش فقالت طلاق بدست تو است مرا طلاق کن فقال الزوج طلاق می کنم وکرر ثلاثا طلقت ثلاثا بخلاف قولہ کنم لأنہ استقبال فلم یکن تحقیقا بالتشکیک الخ (الفصل السابع فی الطلاق بالألفاظ الفارسیۃ، ج: 1، ص: 374، ط: ماجدیہ)۔