السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
حضرت جی ایک مسئلہ پوچھنا ہے کہ ایک شخص نے کسی کو اپنی زمین دی اور کہا کہ جو تم اگاؤگے، اس کا چوتھا حصہ مجھے دینا، اس نے کہا ٹھیک ہے،اب جس نے فصل اگائی اور اس عمل پر خرچہ آیا ، وہ خرچہ اس چوتھے حصہ میں ڈالنا ہے یا صرف فصل کی آمدن میں سے چوتھا حصہ دینا ہے، اور اور فصل سبزی کی کی کاشت ہے۔ مزید یہ بات بھی ہے آج کل مہنگائی کی وجہ سے اگر خرچہ نہ ڈالے اس کے چوتھے حصے میں تو اس کو ہر حال میں نقصان پہنچتا ہے، شرعاً مسئلہ کا جواب عنایت فرمائیں۔ جزاک اللہ خیرا
صورتِ مسئولہ میں اگر مالک زمین کی طرف سے صرف زمین ہو، اور بقیہ اشیاء مثلاً (بیچ، ٹریکٹر، اور عمل) مزارع (فصل کاشت کرنے والا) کی طرف سے ہوں اور مالک زمین کے لیے ایک چوتھائی حصہ اور بقیہ تین چوتھائی حصے مزارع کے لیے ہوں، تو مزارعت کی یہ صورت شرعا جائز اور درست ہے۔ اس صورت میں بیچ ڈالنے سے لے کر کٹائی تک کی ساری ذمہ داری مزارع پر ہوگی مذکور اخراجات مالک زمین سے وصول کرنا یا تقسیم سے پہلے مذکور اخراجات منہا کر نا جائز نہیں جس سے بہر صورت احتر از لازم ہے۔
ففي الفتاوى الهندية: فإن كانت الأرض لأحدهما والبذر من أحدهما فهو على ستة وجوه ثلاثة منها جائزة وثلاثة منها فاسدة أما الثلاثة الأول فأحدها أن تكون الأرض من أحدهما والبذر والبقر والعمل من الآخر وشرطا لصاحب الأرض شيئا معلوما من الخارج جاز لأن صاحب البذر يكون مستأجرا الأرض بشيء معلوم من الخارج اھ (5/ 238)
وفي الدر المختار: (وكذا) صحت (لو كان الأرض والبذر لزيد والبقر والعمل للآخر) أو الأرض له والباقي للآخر (أو العمل له والباقي للآخر) فهذه الثلاثة جائزة اھ (6/ 278)
وفي حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله فهذه الثلاثة جائزة) ؛ لأن من جوزها إنما جوزها على أنها إجارة، ففي الأولى يكون رب البذر والأرض مستأجرا للفاعل وبقره تبعا له لاتحاد المنفعة؛ لأن البقر آلة له؛ كمن استأجر خياطا ليخيط له بإبرته، وفي الثانية يكون رب البذر مستأجرا للأرض بأجر معلوم من الخارج، فتجوز كاستئجارها بدراهم في الذمة اھ (6/ 278)
وفي الدر المختار: ثم فرع على الأخير بقوله (فتبطل إن شرط لأحدهما قفزان مسماة أو ما يخرج من موضع معين، أو رفع) رب البذر (بذره أو رفع الخراج الموظف وتنصيف الباقي) بعد رفعه اھ (6/ 276)
وفي حاشية ابن عابدين (رد المحتار): لأنها قد تؤدي إلى قطع الشركة في الخارج، فإنه يحتمل أن لا تخرج الأرض إلا ذلك المشروط (قوله بعد رفعه) أي رفع ذلك المشروط والظروف متعلق بالباقي فافهم. (6/ 277)
وفي المبسوط للسرخسي: وفي المزارعة لو شرط الشركة في الفضل دون أصل البذر بأن شرطا دفع البذر من رأس الخارج لم يجز العقد اھ (23/ 30)
وفي بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: (ومنها) : أن تكون الأرض من جانب، والباقي كله من جانب، وهذا أيضا جائز؛ لأن العامل يصير مستأجرا للأرض لا غير ببعض الخارج الذي هو نماء ملكه وهو البذر اھ (6/ 179)
صرف زمین ایک کی طرف سے ہو اور فصل کا ایک چوتھائی اس کے لئے طے ہوا ہو تو کیا اس پر چوتھائی اخراجات ڈالنا جائز ہے ؟
یونیکوڈ زراعت 0