اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے یہ کہے: "میں تمہیں طلاق دے دوں گا " یعنی مستقبل کے صیغے میں کہے اور نیت صرف دھمکی دینا ہو، تو کیا اس سے طلاق واقع ہو جائے گی یا نہیں؟اور کتنی؟
سوال میں ذکر کردہ الفاظ ”میں تمہیں طلاق دے دوں گا “کہنےکی وجہ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی، تاہم اس طرح کے وعدۂ طلاق یا دھمکی کے الفاظ استعمال کرنے سے بھی آئندہ احتیاط کی ضرورت ہے۔
كما في الدر المختار: (ويقع بها) أي بهذه الألفاظ وما بمعناها من الصريح الخ
وفي رد المحتار تحت: (قوله وما بمعناها من الصريح) أي مثل ما سيذكره من نحو: كوني طالقا واطلقي ويا مطلقة بالتشديد، وكذا المضارع إذا غلب في الحال مثل أطلقك كما في البحر الخ (باب الصریح، ج: 3، ص: 248، ط: ایچ ایم سعید)۔
وفی تنقیح الحامدیۃ: صيغة المضارع لا يقع بها الطلاق إلا إذا غلب في الحال كما صرح به الكمال بن الهمام الخ( كتاب الطلاق ج:1 ،ص:38، ط: حقانیہ)۔