میرا سوال یہ ہے کہ اگر بیوی کو اسٹامپ پیپر کے ذریعے طلاق نامہ دیا ہو، جس میں تین بار طلاق لکھی ہو اور نیت صرف ایک طلاق دینے کی ہو، اور وکیل کو بھی کہا ہو کہ ہر مہینے ایک ایک طلاق کا خط بھیجنا ہے، لیکن وکیل نے ایک ہی پیپر پر تینوں طلاقیں لکھوا دیں، اور یہ بھی کہا ہو کہ آپ کے پاس عدت کے دوران رجوع کا وقت ہوگا، تو کیا اس صورت میں اس طلاق کو تین طلاقیں شمار کیا جائے گا یا صرف ایک؟ کیونکہ نیت صرف ایک طلاق دینے کی تھی، اور کیا اس صورت میں رجوع کیا جا سکتا ہے؟
سوال میں ذکرکردہ بیان اگرحقیقت پرمبنی ہواوراس میں کسی قسم کی غلط بیانی اوردروغ گوئی کاسہارانہ لیاگیاہوکہ بایں طورکہ مذکورشخص نے وکیل کوطلاق نامہ بناتے وقت ایک طلاق پر مشتمل طلاق نامہ بنوانے کو کہا اور وکیل نےتین طلاقوں پر مشتمل طلاق نامہ بنایا، اورمذکورشخص نےلاعلمی میں ایک طلاق پرمشتمل طلاق نامہ سمجھ کراس پردستخط کردئیے تواس سے مذکورشخص کی بیوی پرصرف ایک طلاق واقع ہوگی،جس کے بعداسے دورانِ عدت رجوع کاحق حاصل ہوگا،لیکن اگروکیل نے طلاق نامہ بنوانے کے بعدباقاعدہ اس شخص کودکھایاہواوراس میں تین طلاق کا اندراج بھی اس شخص کے علم میں آ گیاہو،اس کے باوجوداس نے اس پردستخط کردئیے ہوں ،چاہے وہ غلط فہمی وغیرہ کی بناپرہی کیوں نہ ہو،اس سے بہر حال اس کی بیوی پر طلاق نامہ میں درج تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا، لہذا دونوں پرلازم کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گز قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے،جبکہ عورت ایامِ عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ۔
اور حلالہ شرعیہ یہ ہے کہ عورت اپنے شوہر سے علیحد گی اور عدتِ طلاق گزارنے کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی دوسرے مسلمان شخص سے نکاح کرے اور حقوقِ زوجیت ادا کرے،چنانچہ اگر وہ دوسرا شخص بھی اس سے ایک مرتبہ ہمبستری (جو کہ حلالہ شرعیہ کے تحقق کے لئے ضروری ہے) کے فوراً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا بیوی سے پہلے شوہر کا انتقال ہو جائے ، بہر صورت اس کی عدت گزرنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے نکاح میں آنا چا ہے اور پہلا شوہر بھی اس کو رکھنے پر رضامند ہو تو نئے مہر کے تقرر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقدِ نکاح کر کے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتے ہیں، تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوجِ ثانی نکاح کے بعد طلاق دے، تاکہ زوجِ اول کے لئے عورت دوبارہ حلال ہو جائے، مکروہ تحریمی ہے اور احادیث مبارکہ میں ایسے عمل کرنے والوں کو ملعون قرار دیا گیا ہے، البتہ بغیر شرط کے بلا شبہ جائز اور درست ہے۔
کما فی الدر المختار: و لو كتب على وجه الرسالة و الخطاب، كأن يكتب يا فلانة: إذا أتاك كتابی هذا فأنت طالق طلقت بوصول الكتاب جوهرة، الخ
وفی ردالمحتار: تحت (قوله: طلقت بوصول الكتاب) أي إليها (إلی قولہ) ولو قال للكاتب: اكتب طلاق امرأتي كان إقرارا بالطلاق وإن لم يكتب؛ ولو استكتب من آخر كتابا بطلاقها وقرأه على الزوج فأخذه الزوج وختمه وعنونه وبعث به إليها فأتاها وقع، إن أقر الزوج أنه كتابة أو قال للرجل: ابعث به إليها، أو قال له: اكتب نسخة وابعث بها إليها، وإن لم يقر أنه كتابه ولم تقم بينة لكنه وصف الأمر على وجهه لا تطلق قضاء ولا ديانة، وكذا كل كتاب لم يكتبه بخطه ولم يمله بنفسه لا يقع الطلاق ما لم يقر أنه كتابه، اھ(کتاب الطالق، مطلب فی الطلاق بالكتابة، ج 3، ص 246-247، ط: ایچ ایم سعید)-
وفی الھندیۃ: وكل رجلا أن يطلق امرأته واحدة فطلق الوكيل ثنتين لا يقع شيء في قول أبي حنيفةؒ وقال صاحباهؒ تقع واحدة، رجل قال لغيره طلق امرأتي فطلقها الوكيل ثلاثا فإن كان الزوج نوى الثلاث يقع الثلاث وإلا لم يقع شيء في قول أبي حنيفةؒ وفي قول صاحبيهؒ تقع واحدة، وكل رجلا أن يطلق امرأته تطليقة بائنة فطلقها واحدة رجعية تقع واحدة بائنة، وكذا لو وكل أن يطلقها واحدة رجعية فطلقها واحدة بائنة تقع واحدة رجعية، وهذا إذا قال الوكيل طلقتها واحدة بائنة فإن قال أبنتها قالوا لا يقع شيء كذا في فتاوى قاضي خان، الخ (کتاب الوکالۃ، الباب السادس في الوكالة بما يكون الوكيل فيه سفيرا، الفصل الثاني في الوكالة بالطلاق والخلع، ج 3، ص 611، ط: مکتبۃ ماجدیۃ)-
وفی الھدایۃ: وإذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها فی العدة وبعد إنقضائها، وإن كان الطلاق ثلاثا فی الحرة أو ثنتين فی الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها، الخ (كتاب الطلاق، باب الرجعة، فصل فيما تحل به المطلقة، ج 2، ص 92، ط: مکتبۃ إنعامیۃ)-