میرا آپ سے یہ سوال ہے کہ میرے ابو اور امّی کے درمیان جھگڑا ہوا، اس کی وجہ سے میری امّی نے غصّے میں کہا کہ میں اب آپ کے ساتھ نہیں رہوں گی اور خُلع لوں گی، اور وہ اپنے گھر چلی گئیں، میرے ابو نے دو ماہ انتظار کرنے کے بعد طلاق کے کاغذات بنوائے جن میں تین طلاقیں لکھی ہوئی تھیں، اور انہوں نے ان پر دستخط بھی کر دیے، لیکن یہ کاغذات میری امّی کو نہیں دیے، کیا اس سے طلاق ہو گئی؟
واضح ہو کہ وقوعِ طلاق کے لیے طلاق نامہ بیوی کو بھیجنا ضروری نہیں، بلکہ صرف طلاق نامہ پر دستخط کر دینے سے بھی شرعاً طلاق واقع ہو جاتی ہے، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائل کے والد نے جب طلاق نامہ پر دستخط کر دیے تو اس سے سائل کی والدہ پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلّظہ ثابت ہو چکی ہے، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم دوبارہ نکاح بھی نہیں ہو سکتا، لہٰذا دونوں پر لازم ہے کہ ایک دوسرے سے جدائی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گنہگار ہوں گے، جبکہ سائل کی والدہ ایامِ عدت کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
کما فی الھدایۃ: و إن کان الطلاق ثلاثاً فی الحرۃ أو ثنتین فی الأمۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجاً غیرہ نکاحاً صحیحاً و یدخل بھا ثم یطلقھا أو یموت عنھا (إلی قولہ) و یزاد علی النص بالحدیث المشھور و ھو قولہ علیہ السلام لا تحل للأول حتی تذوق عُسیلۃ الآخر الخ (کتاب الطلاق فصل فیما تحل بہ المطلقۃ ج 2 صـ 409 ط: قدیمی)-
و في الفتاوى الهندية : وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو. ثم المرسومة لا تخلو أما إن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة الخ ( الفصل السادس في الطلاق بالكتابة ، ج 2 ، ص 255 ، ط : رشيدية ) –
وفي الشامية : و لكن لا بد في وقوعه قضاء و ديانة من قصد إضافة لفظ الطلاق إليها عالما بمعناه ولم يصرفه إلى ما يحتمله كما أفاده في الفتح، وحققه في النهر اھ (٢٥٠/٣)۔
وفي الفتاوى الهندية :وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحًا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية (٤٧٣/١)-