السلام علیکم ورحمة الله وبرکاته
میں آپ کے سامنے ایک ذاتی مسئلہ پیش کرنا چاہتی ہوں اور guidance چاہتی ہوں۔
میں ایک لڑکے کو پسند کرتی ہوں اور وہ بھی مجھے پسند کرتا ہے۔ لیکن دونوں طرف کے گھر والے نسل/ذات کی وجہ سے اس رشتے کو قبول نہیں کر رہے۔ لڑکے کے گھر والے بھی اس کی والدہ کی رائے کے باعث ہمارے رشتے کے خلاف ہیں۔
میں چاہتی ہوں کہ اللہ میرے لیے راستے کھولے اور دونوں گھر والوں کے دل نرم ہو جائیں تاکہ یہ رشتہ میرے حق میں آسان ہو۔ میں آپ سے دعا اور اسلامی رہنمائی چاہتی ہوں کہ میں اس مشکل میں کیا کروں اور کون سا درست طریقہ اختیار کروں۔
براہ کرم مجھے درست اسلامی طریقے سے رہنمائی اور دعا/وظائف بتائیں۔
جزاکم اللہ خیراً
سورۃ طہ کی آیت نمبر ۱۳۱، ۱۳۲ کسی کاغذ پر لکھ کر بازو میں باندھ لیں اور پنچ وقتہ نماز کی پابندی کے ساتھ ساتھ توجہ اور دھیان سے اللہ کے حضور دعا کا اہتمام بھی کریں، اس عمل کی پابندی کی برکت سے ان شاء اللہ اُمید ہے کہ سائلہ کی مذکور حاجت پوری ہو جائےگی۔(مأخوذ از اعمال قرآنی) البتہ اس لڑکے کی پسندیدگی کو اپنے دل کی حد تک محدود رکھناتو درست ہے ،مگر اس پسندیدگی کی بناپر اس لڑکے سے رابطہ استوار کرنا یا بات چیت اور بے تکلفی کا تعلق قائم کرنا جائز نہیں ،جس سے احتراز لازم ہے۔
کما في سنن الترمذي: حدثنا هشام بن يونس الكوفي حدثنا القاسم بن مالك المزني عن الجريري عن أبي نضرة عن أبي سعيد قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يتعوذ من الجان وعين الإنسان حتى نزلت المعوذتان، فلما نزلتا أخذ بهما وترك ما سواهما، قال أبو عيسى وفي الباب عن أنس وهذا حديث حسن غريب اھ (باب ما جاء فی الرقیة بالمعوذتین ، ج : ۲، ص : ۷۲۳،ح: ۲۰۵۹،ط؛؛ البشریٰ جدیدة)
و فی صحیح مسلم عن جابر اضی اللہ عنہ قال : نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الرقى، فجاء آل عمرو بن حزم إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالوا: يا رسول الله إنه كانت عندنا رقية نرقي بها من العقرب، وإنك نهيت عن الرقى، قال: فعرضوها عليه، فقال: ما أرى بأسا من استطاع منكم أن ينفع أخاه فلينفعه۔( ما جاء فی الرقعة ، ج؛4، ص:1726، حدیث: 2199، دار احیاء التراث العربی، بیروت)
وفى بذل المجهود: عن عوف بن مالك قال: كنا نرقى فى الجاهلية: فقلنا يا رسول الله كيف ترى فى ذالك؟ فقال: اعرضوا على رقاكم، لابأس بالرقى مالم تكن شركاً اهـ . قال هذا وجه التوفيق بين النهى عن الرقية والاذن فیها ۔ اھ (باب الرقعة،ج :۱۶،ص : ۲۱۲)
وفی الشامی:وفي المجتبى: اختلف في الاستشفاء بالقرآن بأن يقرأ على المريض أو الملدوغ الفاتحة، أو يكتب في ورق ويعلق عليه أو في طست ويغسل ويسقى. وعن «النبي صلى الله عليه وسلم أنه كان يعوذ نفسه» قال رضي الله عنه: وعلى الجواز عمل الناس اليوم، وبه وردت الآثار ولابأس بأن يشد الجنب والحائض التعاويذ على العضد إذا كانت ملفوفةً."( كتاب الحظر والإباحة، ج:6، ص:364، ط: سعيد)