میری بیوی سے میری لڑائی ہوئی تھی،اس وجہ سے وہ اپنے گھر چلی گئی تھی، میں ان کے گھر ان کو لینے گیا تھا، تو میری بیوی کی والدہ مجھے بار بار ایک ہی بات بول رہی تھی کہ تم میری بیٹی کو طلاق دو ، میرا دل تو نہیں تھا، ان کے زیادہ زور دینے پر میں نے تین بار طلاق بول دیا، میری ایک بیٹی ہے اور وہ بہت چھوٹی ہے مجھے آپ سے یہ پوچھنا تھا کہ اگر طلاق کی نیت نہ ہو تو طلاق ہو جاتی ہے یا نہیں؟ میری بیوی اور میں ساتھ رہنا چاہتے ہیں، لہذا مجھے آپ سے یہ پوچھنا تھا کہ حلالہ کو چھوڑ کر کوئی اور حل ہے تو بتائیں۔
نوٹ: الفاظِ طلاق یہ تھے، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، یہ جملہ تین مرتبہ بولا تھا ۔
واضح ہوکہ طلاق کے صریح اور واضح الفاظ استعمال کرتے وقت نیت کرنے کی شرعاً کوئی ضرورت نہیں، بلکہ الفاظ ِطلاق کے مطابق بلانیتِ طلاق بھی شرعاً طلاق واقع ہوجاتی ہے،لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل نے جب اپنی بیوی کو مذکورالفاظ”میں تمہیں طلاق دیتا ہوں“ تین بار کہہ دیے تو اس سے (بغیر نیت کے بھی )سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے،اب رجوع نہیں ہو سکتا، اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دونوں باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا،جبکہ عورت ایامِ عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
قال اللہ تعالی: فإن طلّقھا فلا تحلّ لہ من بعد حتی تنکح زوجاً غیرہ الخ (سورۃ البقرۃ، پارۃ 2، آیۃ 230 )۔
و فی الھندیۃ: و إن کان الطلاق ثلاثاً فی الحرۃ و ثنتین فی الأمۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجاً غیرہ نکاحاً صحیحاً أو یدخل بھا ثم یطلقھا أو یموت عنھا الخ (فصل فیما تحل بہ المطلقۃ، ج1، ص473، ط: ماجدیۃ)۔
و فی بدائع الصنائع : و أما الطلقات الثلاث فحکمھا الأصلی ھو زوال الملک و زوال حل المحلیۃ ایضا حتی لا یجوز لہ نکاحھا قبل التزوج بزوج آخر الخ ( فصل وأما حکم البائن الخ، ج3، ص187، ط: سعید)۔