میرے شوہر نے مجھے غصے میں کہا کہ تم اپنے گھر چلی جاؤ ( ہر 8 سے 10 دن میں وہ مجھے میری امی کے ہاں بھیج دیتے ہیں) میں نے کہا اس بار میں ہمیشہ کے لیے جاؤں گی تو کہا کہ تم میری طرف سے فارغ ہو ،تِم جو چاہتی تھی تم نے وہ ہی کیا ،میں نے کہا آپ مجھے ہر بار گھر بھیج دیتے ہیں
اس میں فارغ کا کیا مطلب ہوگا رہنمائی فرمائیں
واضح ہو کہ "تم میری طرف سے فارغ ہو"کا جملہ عند القرینہ طلاق بائن کے لئے استعمال ہوتا ہے، چنانچہ صورت مسؤلہ میں اگر واقعۃ سائلہ کے شوہر نے غصہ کی حالت میں سائلہ کے جملہ"میں ہمیشہ کے لئے جاؤنگی" کے جواب میں مذکور جملہ "تم میری طرف سے فارغ ہو"بولا ہو تو اس سے سائلہ پر ایک طلاق بائن واقع ہوکر دونوں کا نکاح ختم ہوچکا ہے اور اس کے بعد بغیر تجدید نکاح کے دونوں کا ایک ساتھ رہنا جائز نہیں ہے ۔لہذا دونوں پر لازم ہے کہ ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور جب تک باقاعدہ شرعی گواہان کی موجودگی میں نئے حق مہر کے ساتھ باہمی رضامندی سے نکاح نہ کر لیں اس وقت تک دونوں کیلئے میاں بیوی کی طرح اکھٹے ساتھ رہنا شرعا جائز نہیں جس سے احتراز لازم ہے،جبکہ سائلہ عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔
كما فى الهندية:(الفصل الخامس في الكنايات) لا يقع بها الطلاق إلا بالنية أو بدلالة حال كذا في الجوهرة النيرة. ثم الكنايات ثلاثة أقسام (ما يصلح جوابا لا غير) أمرك بيدك، اختاري، اعتدي (وما يصلح جوابا وردا لا غير) اخرجي اذهبي اعزبي قومي تقنعي استتري تخمري (وما يصلح جوابا وشتما) خلية برية بتة بتلة بائن حرام والأحوال ثلاثة (حالة) الرضا (وحالة) مذاكرة الطلاق بأن تسأل هي طلاقها أو غيرها يسأل طلاقها (وحالة) الغضب ففي حالة الرضا لا يقع الطلاق في الألفاظ كلها إلا بالنية والقول قول الزوج في ترك النية مع اليمين وفي حالة مذاكرة الطلاق يقع الطلاق في سائر الأقسام قضاء إلا فيما يصلح جوابا وردا فإنه لا يجعل طلاقا كذا في الكافي وفي حالة الغضب يصدق في جميع ذلك لاحتمال الرد والسب إلا فيما يصلح للطلاق ولا يصلح للرد والشتم(ج:١،ص:٣٧٥)
وفي الهداية: وإذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها " لأن حل المحلية باق لأن زواله معلق بالطلقة الثالثة فينعدم قبله ومنع الغير في العدة لاشتباه النسب ولا اشتباه في إطلاقه " وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها " والأصل فيه(ج:٢،ص:٢٥٧)