السلام علیکم مفتی صاحب۔
میرا سوال طلاق کے بارے میں ہے۔ دسمبر 2024 میں جھگڑے کے دوران میں نے بیوی کو واٹس ایپ پر یہ لکھا:
“میں آج ہمارا طلاق announce کر رہا ہوں”
لیکن میں نے “میں تمہیں طلاق دیتا ہوں” جیسے کوئی صریح الفاظ نہیں لکھے۔ اُس وقت میرا پکا اور موجودہ ارادہ طلاق دینے کا بالکل نہیں تھا۔ میں صرف وقت لینے اور اسے دوبارہ سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا۔ میرا خیال تھا کہ شاید اگلے میسجز میں بات بدل جائے۔ اگر صورتِ حال مزید بگڑتی تو شاید بعد میں طلاق کا سوچتا، لیکن اسی لمحے طلاق دینے کا ارادہ نہیں تھا۔ اس کے بعد میں نے لکھا “کیا ابھی کر دوں؟” اور “کیا تم واقعی آج چاہتی ہو؟” تو اس نے جواب میں کہا “ہو گیا”۔ میری محدود معلومات کی وجہ سے میں نے بھی سمجھ لیا کہ شاید طلاق ہو گئی ہے، حالانکہ میں نے کسی بھی وقت صریح الفاظ نہیں کہے۔
براہ کرم فقہِ حنفی کی روشنی میں بتا دیں کہ کیا اس جملے اور اس نیت کے ساتھ طلاق واقع ہو جاتی ہے؟
صورت مسؤلہ میں سائل نے سال 2024 ء میں جب مذکور الفاظ " میں آج طلاق کا اعلان کررہا ہوں " تحریر کرکے بیوی کو ارسال کیے ، اس وقت ان الفاظ سے باقاعدہ طلاق دینے کی نیت نہ ہو ، بلکہ طلاق دینے کے ارادہ کا اظہار مقصود ہو جیسا کے اگلے میسیجزمثلا " کیا تم واقعی آج طلاق چاہتی ہو " بھی اسپر قرینہ ہے ، تو چونکہ عرف میں بھی یہ الفاظ طلاق کے ارادہ کے اظہار کے لئے بولے جاتے ہیں ، اسلئے ایسی صورت میں ان الفاظ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوتی بلکہ میاں بیوی کا نکاح بدستور برقرار ہے بشرطیکہ سائل نے اس سے قبل یا بعد میں کوئی طلاق نہ دی ہو، لیکن آئندہ کے لئے ایسے الفاظ کے استعمال سے احتیاط چاہیئے ۔
کما فی الھندیہ : قالت لزوجھا : من با تو نمی باشم ، فقال الزوج : مباش ، فقالت : طلاق بدست تو است مرا طلاق کن ، فقال الزوج : طلاق می کنم طلاق می کنم وکرر ثلاثا ، طلقت ثلاثا بخلاف قولہ کنم لانہ استقبال فلم یکن تحقیقا با لتشکیک ، و فی المحیط لو قال بالعربیۃ : اطلق ، لا یکون طلاقا الا اذا غلب استعمالہ للحال فیکون طلاقا ( باب الطلاق بالالفاظ الفارسیۃ ، ج : 1 ، ص : 384 ، ماجدیۃ )
و فی فتح القدیر : وَلَا يَقَع بِأُطَلِّقُك إلَّا إذَا غَلَبَ فِي الْحَالِ، ( باب ایقاع الطلاق ، ج : 4 ، ص : 8 ، ط : دار الفکر )
وفی الدرالمختار : ( صریحہ ما لم یستعمل الا فیہ ) ولو بالفارسیۃ
و فی رد المختار : وقولہ( صریحہ ما لم یستعمل الا فیہ ) ای غالبا کما یفید کلام البحر ، و عرفہ فی التحریر بما یثبت حمکہ الشرعی بلا نیۃ ، و اراد بما الفظ او ما یقوم مقامہ من الکتابۃ المستبینۃ او الاشارۃ المفھومۃ لان رکن الطلاق الفظ او ما یقوم مقامہ مما ذکر ،