اگر مقرر ہ امام کے مسجد میں داخل ہونے کے وقت اقامت شروع ہوگئی ہو اور دوسرا امام مصلیٰ پر کھڑا ہوا ہو تو کیا کرنا چاہیئے؟
اگر کسی مسجد میں مقررہ امام کے داخل ہوتے ہی اقامت شروع ہوچکی ہو اور اس دوران کوئی دوسرا امام (یا مقتدی) مصلیٰ پر کھڑا ہوگیا ہو تو شریعت کا حکم یہ ہے کہ امامت کا استحقاق اُسی امام ہی کوحاصل ہے جو مسجد کا مقررہ امام ہو۔ لہٰذا ایسی صورت میں جب وہ مقررہ امام آجائے تو مصلیٰ پر کھڑے شخص کو فوراً پیچھے ہٹ جانا چاہیے اور امامت مقررہ امام کو ہی کرانی چاہیے، البتہ اگردوسرے شخص نے تکبیرِ تحریمہ باندھ لی ہو، تب نیت توڑکر پیچھے ہٹناجائزنہیں ،بلکہ مقررہ امام کوچاہیئے کہ دیگر مقتدیوں کی طرح اس امام کی اقتداء میں نماز اداکرلے۔
کما فی الدرالمختار : (و) اعلم أن (صاحب البيت) و مثله إمام المسجد الراتب (أولى بالإمامة من غيره) مطلقا الخ (باب الإمامۃ، ج: 1، ص: 559، ط: ایچ ایم سعید)۔
وفی ردالمحتار تحت: (قوله مطلقا) أي و إن كان غيره من الحاضرين من هو أعلم و أقرأ منه الخ (باب الإمامۃ، ج: 1، ص: 559، ط: ایچ ایم سعید)۔