کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ ہم میاں بیوی کے درمیان کچھ گھریلو ناچاقیاں تھیں، جن کی وجہ سے میں نے مندرجہ ذیل الفاظ بولے ہیں ۔
”میں نے تمہیں فارغ کیا “ پھر دو مہینے کے اندر میں نے دوسری طلاق دی ”میں تمہیں طلاق دیتا ہوں “پہلے والے الفاظ کے بعد سے ہم دونوں جسمانی طور پر ایک دوسرے سے الگ ہیں، اب ہم ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے لیے کیا حکم ہے؟
صورتِ مسئولہ میں جب سائل نےاپنی بیوی کو لڑائی جھگڑے میں مذکور الفاظ ” میں نے تمہیں فارغ کیا“ کہہ دیے،پھردومہینے کے اندر( دورانِ عدت ) صریح الفاظ ”میں تمہیں طلاق دیتاہوں“ کے ساتھ دوسری طلاق دے دی تو اس سے اس کی بیوی پر دو طلاق بائن واقع ہوگئیں،اب تجدیدِِ نکاح سے قبل میاں بیوی کا تعلق قائم کرنا یاساتھ رہنا شرعاً جائز نہیں ہے،البتہ اگر میاں بیوی دونوں دوباره با ہم ازدواجی حیثیت سے اکھٹے رہنے پر رضا مند ہوں تو نئے حق مہر کے ساتھ گواہان کی موجودگی میں دوبارہ باہم عقد نکاح کیا جا سکتا ہے ، ورنہ عورت ایام عدت کے بعد(جوکہ مذکور صورت میں پہلی طلاق شمار ہوتی ہے) اپنی مرضی سے کسی جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے ۔
کمافی الدرالمختار: ونحو اعتدي واستبرئي رحمك، أنت واحدة، أنت حرة، اختاري أمرك بيدك سرحتك، فارقتك لا يحتمل السب والرد(الی قوله) (وفي الغضب) توقف (الأولان) إن نوى وقع وإلا لا (وفي مذاكرة الطلاق) يتوقف (الأول فقط) ويقع بالأخيرين وإن لم ينو لأن مع الدلالة لا يصدق قضاء في نفي النية لأنها أقوى لكونها ظاهرة، والنية باطنة الخ(کتاب الطلاق،ج:3،ص:302،ط:سعید)۔
وفیہ ایضاً:(الصريح يلحق الصريح و) يلحق (البائن) بشرط العدة (والبائن يلحق الصريح) الصريح ما لا يحتاج إلى نية بائنا كان الواقع به أو رجعيا الخ۔
وفی الشامیۃ:تحت(قوله الصريح يلحق الصريح) كما لو قال لها: أنت طالق ثم قال أنت طالق أو طلقها على مال وقع الثاني بحر، فلا فرق في الصريح الثاني بين كون الواقع به رجعيا أو بائنا (قوله ويلحق البائن) كما لو قال لها أنت بائن أو خلعها على مال ثم قال أنت طالق أو هذه طالق بحر عن البزازية. ثم قال: وإذا لحق الصريح البائن كان بائنا لأن البينونة السابقة عليه تمنع الرجعة كما في الخلاصة الخ(كتاب الطلاق، ج:3، ص:306، ط:سعيد)۔