کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مندرجہ ذیل مسئلے میں کہ من مسمیٰ اور میری بیوی مسمّاۃ......کے درمیان کچھ لڑائی جھگڑا ہوا، جس کے دوران غصے اور جذبات میں میرے منہ سے یہ الفاظ نکلے ”طلاق، طلاق، طلاق، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں“، یہ تمام الفاظ میں نے ایک ہی سانس میں کہے، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوئیں، اور آئندہ ہمارے لیے کیا حکم ہے؟
سائل نے جب اپنی بیوی کو مذکور الفاظ ” طلاق، طلاق، طلاق “کہے، تو اس سے سائل کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، جبکہ بقیہ الفاظ طلاق محل باقی نہ رہنے کی وجہ سے لغو ہوگئے ہیں، اب رجوع نہیں ہوسکتا، اور نہ ہی حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح ہوسکتا ہے، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں، اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں ورنہ دونوں سخت گنہگار ہوں گے، جبکہ عورت ایامِ عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔
و فی الفتاوى الهندية: و إن كان الطلاق ثلاثا فی الحرة و ثنتين فی الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا و يدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا فی الهداية ولا فرق فی ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا فی فتح القدير و يشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل و هو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز. أما الإنزال فليس بشرط للإحلال(1/ 473)۔
فی الھندیۃ: وإذا قال لامرأته أنت طالق وطالق وطالق ولم يعلقه بالشرط إن كانت مدخولة طلقت ثلاثا وإن كانت غير مدخولة طلقت واحدة وكذا إذا قال أنت طالق فطالق فطالق أو ثم طالق ثم طالق أو طالق طالق كذا في السراج الوهاج اھ(الفصل الاول فی الطلاق الصریح ج1 ص355 ط:ماجدیہ)۔