السلام علیکم!مفتی صاحب! آپ سے گزارش ہے، میرا ایک سوال ہے، میری بیٹی کےلئے مجھے فتویٰ چاہیئے۔ میں لڑکی کی والدہ ہوں، میری بیٹی کی عمر23 سال اور لڑکے کی عمر28 سال ہے۔ایک سال پہلے جون 2024 میں ایک لڑکے کے ساتھ میری بیٹی نے کورٹ میں نکاح کیااور پھر وہ اس کے ساتھ سسرال چلی گئی۔ دوسرے تیسرے دن وہ گھر آگئی، میرے شوہر نے اسےواپس گھر بلالیا، وہ اکیلے آئی، میرے شوہرنے اسے بری طرح مار پیٹ کی، اس کے سارے بال کاٹ دیے اور طلاق کے کاغذات بنواکر رکھےاورپھر لڑکے کورخصتی کا آسرا دے کر بلایا۔ لڑکا دوسرے شہر کا رہنے والا تھا، اپنے والدین کے ساتھ آیا، پھر اس کو مارپیٹ کرکےزبردستی گن رکھ کر طلاق دلوائی۔ اس کے والدین کو ذلیل کیا، اور بیٹی کودھمکی دی یا تو تمہیں گولی مار دوں گایا اپنے آپ کو۔ لڑکا مالی طور پر کمزور تھا۔ طلاق کے دوران پولیس والوں کو شامل کیا، گن پوائنٹ پر تین بار منہ سے کہلواکر کاغذات پر دستخط کردیئے۔ اس کے والدین کو پریشرائز کیا اور لڑکے کو بھی اور اس کے بعد ایک ماہ کےلئے جیل کروادیا۔ ایک ماہ بعد لڑکے نے دوبارہ رابطہ کیا اور اس نے کہا کہ میں نے جبراً طلاق دی تھی، میں اس طلاق کےلئے دل سے رضامند نہیں تھا اور نہ ہی میری بیٹی اس طلاق پر راضی تھی۔ لڑکے نے میری بیٹی کو بلاکر دوبارہ اس سے رجوع کرلیا۔ اس لڑکے کا کہنا تھا کہ میں طلاق پر راضی نہیں اور سال بعد وہ لڑکی کو واپس لے گیا۔ میرے شوہر اور بڑوں کا کہنا ہے کہ یہ طلاق واقع ہوگئی ہے، میں آپ سے یہ جاننا چاہتی ہوں کہ کیا یہ طلاق ہوگئی یا نہیں؟میں تحریری طور پر فتویٰ چاہتی ہوں کہ ہمیں آگے کیا کرنا چاہیئے۔لڑکی اہلِ سنت طبقے سے ہے اور لڑکا اہلِ حدیث کے طبقے سے ہے۔
نوٹ: زبانی الفاظ یہ بولے تھے”میں آپ کو طلاق دیتا ہوں“۔ گن پوائنٹ پر یہ تین مرتبہ بلوایا، اور تحریری طلاق نامہ پر بھی سائن لئے۔نیز طلاق سے پہلے ان دونوں کے درمیان ہم بستری بھی ہوئی تھی۔
واضح ہوکہ صریح الفاظِ طلاق میں نیت شرط نہیں ہوتی،ان الفاظ کے بولنے سے بہرحال طلاق واقع ہوجاتی ہے، چاہے عام حالات ہوں یا حالتِ اکراہ (یعنی کسی نےگن پوائنٹ وغیرہ کے ذریعے طلاق پر مجبور کیا ہو)۔ لہٰذا صورت مسؤلہ میں چونکہ سائلہ کے دامادنے تحریری طلاق نامہ پردستخط کرنے کے ساتھ اپنی بیوی کو زبانی طور پربھی تین طلاقیں دے دیں ہیں ، جس سے سائلہ کی بیٹی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا، جبکہ تین طلاقوں کے وقوع کے بعد اب ان دونوں کےلئے بغیر حلالۂ شرعیہ کے اکٹھا ہونا ناجائز اور حرام ہے۔ لہٰذا ان پر لازم ہےکہ فی الفور علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے، اور اب تک میاں بیوی کی حیثیت سے جتناعرصہ اکٹھے گزاراہے اس پربصدقِ دل توبہ و استغفار بھی کریں۔
کما فی الھندیۃ: یقع طلاق کل زوج إذا کان بالغا عاقلا سواء کان حرا أو عبدا طائفا أو مکرھا کذا فی الجوھرۃ النیرۃ إلخ۔ (الباب الأول فی تفسیرہ و رکنہ و شرطہ، فصل فیمن یقع الطلاق و فیمن لا یقع الطلاق، ج 1، ص 353، ط: مجدیۃ)۔
وفی بدائع الصنائع: وأما کون الزوج طائعا فلیس بشرط عند أصحابنا و عند الشافعی شرط حتی یقع طلاق المکرہ عندنا و عندہ لا یقع إلخ۔ (کتاب الطلاق، فصل وأما شرائط الرکن، ج 3، ص 100، ط: ایچ۔ایم۔سعید)۔
وفیھا أیضا: (أما) الطلاق فلقولہ سبحانہ و تعالی فطلقوھن لعدتھن و قولہ علیہ الصلاۃ و السلام کل طلاق جائز إلا طلاق الصبی و المعتوہ و لأن الفائت بالإکراہ إلا الرضا طبعا و إنہ لیس بشرط لوقوع الطلاق إلخ۔ (کتاب الإکراہ، فصل و أما بیان ما یقع علیہ الإکراہ، ج 7، ص 182، ط: سعید)۔
و فی الدر المختار: (صریحہ ما لم یستعمل إلا فیہ) و لو بالفارسیۃ (کطلقتک و أنت طالق و مطلقۃ) (إلی قولہ) (و یقع بھا) أی بھذہ الألفاظ و ما بمعناہ من الصریح، (إلی قولہ) (و ینکح مبانتہ بما دون الثلاث فی العدۃ و بعدھا بالإجماع) (إلی قولہ) (لا) ینکح (مطلقۃ) من نکاح صحیح نافذ کما سنحققہ (بھا) أی بالثلاث (لو حرۃ و ثنتین لو أمۃ) و لو قبل الدخول (إلی قولہ) (حتی یطأھا غیرہ و لو ) الغیر (مراھقا) یجامع مثلہ (إلی قولہ) (بنکاح) نافذ خرج الفاسد و الموقوف (إلی قولہ) (و تمضی عدتہ) أی الثانی (لا بملک الیمین) لاشتراط الزوج بالنص إلخ۔ (باب الصریح، ج 3، ص 247، ط: سعید)۔