میرا مسئلہ یہ ہےکہ میرے نکاح کو تقریباً تیرہ سال ہوچکے ہیں ،اس کے بعد دس سال پہلے میری کسی گھر سے چڑ تھی جس کی وجہ سے میں نے بیوی سے کہا کہ اگر آپ اس کے گھر گئی تو تجھے طلاق ہے،پھر بیوی اس کے گھر چلی گئی، بعد میں رجوع بھی کرلیا، لیکن ابھی حالیہ واقعہ میں لڑائی جھگڑے کے دوران یہ کہا کہ میں نے آپ کو پہلے طلاق دی تھی اب ایک دوسری طلاق دیتا ہوں،یہ الفاظ تین چار مرتبہ کہے تھے اور اس سے مراد میری دوسری طلاق دینا تھا، تاکید کے لئے الفاظ تین چار مرتبہ کہےتھے،تو کیا ان سے دوطلاقیں واقع ہوں گی یا تین؟اور ہمارے لئے کیا حکم ہے؟
صورتِ مسئولہ میں سائل نے جب اپنی بیوی کو یہ الفاظ” اگر آپ اس کے گھر گئی تو تجھے طلاق ہے “کہے تو اس سےسائل کی بیوی پر ایک طلاق رجعی معلق ہو گئی، پھر جب سائل کی بیوی اس گھرمیں گئی تو اس صورت میں سائل کی بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہو گئی تھی ،چنانچہ اس کے بعد سائل نےدورانِ عدت رجوع کر لیا تھا تو رجوع درست ہوکر دونوں کا نکاح بدستور برقرار تھا،اب حالیہ واقعے میں سائل نے لڑائی جھگڑے کے دوران جب اپنی بیوی کو یہ الفاظ کہے کہ میں نے آپ کو پہلے طلاق دی تھی، اب ایک دوسری طلاق دیتا ہوں تو اس سے سائل کی بیوی پر دوسری طلاق بھی واقع ہو گئی، البتہ اس کے بعد کےیہ الفاظ بار بار دہرانے سے اگر واقعۃًسائل کی نیت مزید طلاق دینے کی نہ ہو ،بلکہ اس کا مقصد تاکید ہوتواس سےدیانۃً اگر چہ مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی اورسائل کو دورانِ عدت رجوع کا حق حاصل ہے،اور زبانی یا عملی طور پر رجوع کرنے سے نکاح بدستور برقرار رہے گا،تاہم آئندہ کے لئے سائل کو فقط ایک طلاق کا اختیار ہوگا،لہذا آئندہ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط لازم ہے،لیکن اگر یہ معاملہ قاضی کی عدالت پہنچ جائے اور قاضی عورت کے گواہان کی بنیاد پر طلاق مغلظہ کا فیصلہ کردے تو قضاءً یہ طلاقیں واقع ہوجائیں گی۔
کما فی التاتارخانیۃ: وفی الخانیۃ: رجل قال لامرأتہ ”أنت طالق أنت طالق أنت طالق “وقال عنیت بالأولی الطلاق وبالثانیۃ والثالثۃ إفھامھا! صدق دیانۃ وفی القضاء طلقت ثلاثا الخ (کتاب الطلاق، ج: 4، ص: 429، ط: رشیدیہ)۔
وفی تبیین الحقائق: إذا قال أنت طالق طالق طالق وقال إنّما أردت به التّكرار صُدّق ديانة لا قضاء فإن الْقاضِي مَأمور باتّباع الظاهر والله يتولى السَرائر والْمرأة كالقَاضِي لا يحل لها أن تمكنه إذاسَمعت منه ذلك أو علمت به لأنّها لا تعلم إلَا الظاهر وكل موضع كان القول فيه قوله إنما يصدق مع اليمين لأنّه أمین في الإخبار عما في ضمیره والقول قولہ مع یمینہ الخ (باب الکنایات، ج 3،ص: 82،ط: دار الکتب العلمیہ)۔
وفی الھندیۃ : واذا اضافہ الی الشرط وقع عقیب الشرط اتفاقاً مثل ان یقول لأمرأتہ ان دخلت الدار فأنت طالق الخ ( فصل فی تعلیق الطلاق الخ ، ج 1 ، ص 420 ، ط : ماجدیہ)۔