مفتیانِ کرام! اس مسئلے کے بارے میں کیا فرماتے ہیں کہ ہمارے درمیان صبح ناشتے کے دوران میاں بیوی میں کچھ گفتگو ہوئی، مسئلہ یہ تھا کہ ہم نے چھولے منگوائے تھے، لیکن وہ کم تھے، اس نے کہا کھاؤ، میں نے کہا میں نہیں کھاتا، پھر اس نے کہا میں آپ کے بھائی کو بتاتی ہوں اور وہ کھڑکی کے پاس چلی گئی، اس پر مجھے مزید غصہ آیا اور میں نے اسے تین مرتبہ ”طلاق، طلاق، طلاق“ کے الفاظ کہہ دیے، اس کے بعد میں نے اپنے والد کی موجودگی میں دوبارہ یہی الفاظ تین بار دہرائے، اب ہمارے لیے شرعی حکم کیا ہے؟ رہنمائی فرمائیں۔
سائل نے جب اپنی بیوی کو مذکور الفاظ ” طلاق، طلاق، طلاق “کہے، تو اس سے سائل کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوگئی جبکہ بعد میں کہےگئے الفاظِ طلاق محل باقی نہ رہنے کی وجہ سے لغو ہوگئے ہیں، اب رجوع نہیں ہوسکتا، اور نہ ہی حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح ہوسکتا ہے، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں، اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گنہگار ہوں گے، جبکہ عورت ایامِ عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔
و فی الفتاوى الهندية: و إن كان الطلاق ثلاثا فی الحرة و ثنتين فی الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا و يدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا فی الهداية ولا فرق فی ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا فی فتح القدير و يشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل و هو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز. أما الإنزال فليس بشرط للإحلال(1/ 473)۔
فی الھندیۃ: وإذا قال لامرأته أنت طالق وطالق ولم يعلقه بالشرط إن كانت مدخولة طلقت ثلاثا وإن كانت غير مدخولة طلقت واحدة وكذا إذا قال أنت طالق فطالق فطالق أو ثم طالق ثم طالق أو طالق طالق كذا في السراج الوهاج اھ(الفصل الاول فی الطلاق الصریح ج1 ص355 ط:ماجدیہ)۔