"السلام علیکم! گزارش یہ ہے کہ میری بیوی سے میری لڑائی ہو گئی تھی اور وہ اپنے میکے چلی گئی، اگلے دن میری اُس سے فون پر بات ہوئی، وہ آنا نہیں چاہ رہی تھی، میں نے بہت کہا کہ جس طرح گئی ہو، اسی طرح واپس آجاؤ، لیکن وہ نہیں آئی، فون پر بہت زیادہ بحث ہوگئی، تو میں نے غصے میں آکر اسے تین مرتبہ ”طلاق، طلاق، طلاق“ کہا، دو مرتبہ اس نے سن لیا، تیسری مرتبہ کہنے سے پہلے ہی میری بیوی نے فون کاٹ دیا، لہٰذا آپ سے گزارش ہے کہ ہمیں بتائیں کہ آیا ہمارے درمیان رشتہ ختم ہوگیا ہے یا نہیں؟ ہم آپس میں مل کر رہنا چاہتے ہیں، براہِ کرم تفصیل سے جواب دیں۔ اور میں نے فون پر طلاق کے الفاظ کہے تھے، نام لے کر نہیں کہا تھا، اس کے بارے میں بھی ہمیں بتایا جائے کہ کیا ہم دوبارہ مل کر رہ سکتے ہیں یا نہیں؟
واضح ہو کہ وقوع طلاق کے لیے بیوی کا نام لینا یا بیوی کا طلاق بیوی کا الفاظ طلاق سننا یا سامنے موجودہونا شرعاً لازم ا ور ضروری نہیں، بلکہ اس کے بغیرفون پر بھی طلاق کے الفاظ اداکرنے سےشرعاً طلاق واقع ہو جاتی ہے ،لہذا صورتِ مسئولہ میں جب سائل نے اپنی بیوی کو فون پر مذکور الفاظ”طلاق، طلاق، طلاق“ کہہ دیے اگرچہ اس کی بیوی نے صرف دوبارطلاق کے الفاظ سنے ہوں،تب بھی اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا،لہٰذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیا ر کر یں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہونگے،جبکہ عورت عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
اور حلالۂ شرعیہ یہ ہے کہ عورت اپنے شوہر سے علیحدگی اور عدتِ طلاق گزارنے کے بعد ،بغیر کسی شرط کے کسی دوسرے مسلمان شخص سے نکاح کرے اور حقوقِ زوجیت ادا کرے ، چنانچہ اگر وہ دوسرا شخص بھی اس سے ایک مرتبہ ہمبستری (جو کہ حلالۂ شرعیہ کے تحقق کیلئے ضروری ہے) کے فوراً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصے بعد طلاق دیدے یا بیوی سے پہلے شوہر کا انتقال ہو جائے، بہر صورت اس کی عدت گزارنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے نکاح میں آنا چاہے اور پہلا شوہر بھی اس کو رکھنے پر رضامند ہو تو نئے مہر کے تقرر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقدِ نکاح کر کے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتے ہیں، تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوجِ ثانی نکاح کے بعد طلاق دے، تاکہ زوجِ اول کے لئے عورت دوبارہ حلال ہو جائے ، مکروہ تحریمی ہے اور احادیثِ مبارکہ میں ایسے عمل کرنے والوں کو ملعون قرار دیا گیا ہے ،البتہ بغیر شرط کے حلالہ بلاشبہ جائز اور درست ہے۔
کما فی الفتاوى الهندية: و إن كان الطلاق ثلاثا فی الحرة و ثنتين فی الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا و يدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا فی الهداية ولا فرق فی ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا فی فتح القدير و يشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل و هو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز. أما الإنزال فليس بشرط للإحلال(1/ 473)۔
فی الھندیۃ: وإذا قال لامرأته أنت طالق وطالق وطالق ولم يعلقه بالشرط إن كانت مدخولة طلقت ثلاثا وإن كانت غير مدخولة طلقت واحدة وكذا إذا قال أنت طالق فطالق فطالق أو ثم طالق ثم طالق أو طالق طالق كذا في السراج الوهاج اھ(الفصل الاول فی الطلاق الصریح ج1 ص355 ط:ماجدیہ)۔
و فی الرد : و للحافظ ابن القيم الحنبلي رسالة في طلاق الغضبان قال فيها : إنه على ثلاثة أقسام : أحدها أن يحصل له مبادئ الغضب بحيث لا يتغير عقله و يعلم ما يقول و يقصده و هذا لا إشكال فيه . اھ(3/244)۔