محترم و مکرم مفتیانِ کرام! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، میں جماعت میں تھا اور 26 جون 2025 کو اچانک میرے بینک اکاؤنٹ میں ایک خاطر خواہ رقم جمع ہوئی۔ ابتدا میں گمان ہوا کہ شاید میرے ایک دوست نے قرض واپس کیا ہے، مگر اس سے پوچھنے پر پتہ چلا کہ اس نےیہ رقم نہیں بھیجی۔ پھر مجھے اپنی کمپنی کی طرف سے انعام ملنے کی امید تھی، لیکن وہ شائد ملتوی ہو گیا اور ابھی تک نہیں ملا۔ ٹرانزیکشن اطلاع میں دوسرے بینک کا ذکر اوراکاؤنٹ کے چند آخری ہندسے دکھائی دیتے ہیں، مکمل اکاؤنٹ نمبر نہیں۔ میں نے اپنی بینک برانچ اور تعارف کے ذریعے دوسرے بینک والوں سے بھی دریافت کیا، لیکن ان سے بھی کوئی معلومات نہ مل سکیں۔ اب تک نہ اصل بھیجنے والے کی طرف سے کوئی رابطہ ہوا اور نہ بینک کی جانب سے کوئی دعویٰ یا رہنمائی ملی۔ سوالات برائے رہنمائی:
الف. اگر یہ رقم کسی کی غلطی سے میرے اکاؤنٹ میں آئی ہو تو میری شرعی ذمہ داری تلاش مالک کے حوالے سے کہاں تک ہے؟
ب. جب اصل مالک نامعلوم ہو اور معقول کوشش کے بعد بھی نہ مل سکے تو کیا اس رقم کو اپنے استعمال میں لانا جائز ہے، یا مالک کی طرف سے صدقہ کر دینا لازم/افضل ہوگا؟
ج. اگر بعد میں اصل مالک مل جائے تو صدقہ کیے جانے کی صورت میں مجھے کیا کرنا ہوگا؟
د. اور کیا اس واقعے کو ان صحابی کے قصے سے منسوب کرنا جائز ہے ،جن کو قضائے حاجت کے دوران چوہے نے اشرفیاں لا کر دی تھیں؟
صورتِ مسئولہ میں سائل کے اکاؤنٹ میں آنے والی رقم کا حکم مالِ لقطہ (گم شدہ مال )کا ہے، جس پر درج ذیل احکام لاگوہوتے ہیں:اولاًسائل پر معروف طریقے کے مطابق کوشش کرنالازم ہے کہ مذکوررقم کواس کے اصل مالک تک پہنچا یاجا ئے، جیسےمتعلقہ بینک و ادارے سے رابطہ کرنا، چونکہ بقول سائل وہ یہ کوشش کر چکاہے، اس لیے اس حد تک اس کی شرعی ذمہ داری پوری ہو چکی ہے۔لہذا اگر مناسب کوشش کے باوجود اصل مالک معلوم نہ ہو سکے اور آئندہ بھی ملنے کی کوئی صورت نظر نہ آئے،اور سائل صاحب نصاب ہو تو اس رقم کو اپنے ذاتی استعمال میں لانا جائز نہیں، بلکہ اصل مالک کی نیت سے صدقہ کر ناضروری ہے،اگر بعد میں اصل مالک سامنے آ جائے تو چونکہ صدقہ اس کی طرف سے کیا گیا تھا، اس لیے اگروہ اس صدقہ کوبرقراررکھنے پرآمادہ ہوتواس صدقے کا اجر اللہ تعالیٰ ضرور اصل مالک کو عطا فرمائیں گے۔ان شاءاللہ ۔ بصورت دیگرسائل پر اصل رقم اسے ادا کر نالازم ہوگا اوریہ صدقہ سائل کی طرف سے شمارہوگا۔جہاں تک اس واقعے کو اس صحابیؓ کے قصے پر منطبق کرنا جنہیں غیر معمولی طور پر اشرفیاں ملیں، درست نہیں، کیونکہ اگرچہ مذکورواقعہ ان صحابی کی خاص کرامت تھا،مگراس کے باوجود فقہاء کرام اس قسم کے واقعات کولقطہ شمارکرکےاس پرعام لقطہ کے شرعی اصول ہی لاگو کرنے کاحکم بیان کرتے ہیں۔
کما فی سنن ابن ماجہ: بَابُ الْتِقَاطِ مَا أَخْرَجَ الْجُرَدُ: عن المقداد بن عمرو ، انه خرج ذات يوم إلى البقيع وهو: المقبرة لحاجته، وكان الناس لا يذهب احدهم في حاجته إلا في اليومين والثلاثة، فإنما يبعر كما تبعر الإبل، ثم دخل خربة، فبينما هو جالس لحاجته، إذ راى جرذا اخرج من جحر دينارا، ثم دخل فاخرج آخر حتى اخرج سبعة عشر دينارا، ثم اخرج طرف خرقة حمراء. قال المقداد: فسللت الخرقة، فوجدت فيها دينارا، فتمت ثمانية عشر دينارا، فخرجت بها حتى اتيت بها رسول الله صلى الله عليه وسلم، فاخبرته خبرها، فقلت: خذ صدقتها يا رسول الله، قال:" ارجع بها، لا صدقة فيها بارك الله لك فيها"، ثم قال:" لعلك اتبعت يدك في الحجر" قلت: لا والذي اكرمك بالحق. قال: فلم يفن آخرها حتى مات(رقم الحدیث:2508،ص: 510،ط:بشری)
وفی حاشیۃ فخر الاحسان تحت ھذا الحدیث: وفائدۃ الترجمۃ ان ما اخذت الطیور او حشرات الارض من مال فحکمہ حکم اللقطۃ(رقم الحدیث:2508،ص: 510،ط:بشری)۔
کمافی تبیین الحقائق:(ثم تصدق) أي تصدق باللقطة إذا لم يجئ صاحبها بعد التعريف لأن الواجب عليه حفظها وأداؤها إلى أهلها قال الله تعالى {إن الله يأمركم أن تؤدوا الأمانات إلى أهلها} [النساء: 58] وذلك بالتسليم إليه عند القدرة وبالتصدق عنه عند عدمها إذ إيصال بدلها وهو الثواب كإيصال عينها وإن شاء أمسكها رجاء الظفر بصاحبها الخ(کتاب اللقطۃ،ج:3،ص:304،ط:الکبری الامیریۃ)۔
وفی الشامیۃ:قولہ( فينتفع الرافع ) أي من رفعها من الأرض أي التقطها وأتى بالفاء فدل على أنه إنما ينتفع بها بعد الإشهاد والتعريف إلى أن غلب على ظنه أن صاحبها لا يطلبها والمراد جواز الانتفاع بها والتصدق وله إمساكها لصاحبها الخ(کتاب اللقطۃ،ج:4،ص:279،ط:سعید)۔
علاقے کی ترقی کے لیے منظور شدہ فنڈ میں خرد برد کر کے ذاتی مفاد کے استعمال کرنے کا حکم
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0طلبہ کو بیگ(بستہ)دلانے کے لیے دی گئی رقم میں سے استاد اپنے آنے جانے کا خرچ لے سکتا ہے ؟
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0والدہ کے پاس رکھوائی ہوئی امانت کی واپسی میں, ایک بیٹی کا ان کے انتقال کے بعد ٹال مٹول سے کام لینا
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0زندگی میں اپنا مکان ایک بیٹی ،پانچ بیٹوں میں سے فقط دو بیٹوں میں تقسیم کرنا جائز ہے ؟
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0