محترم مفتیانِ کرام
مسئلہ یہ ہے کہ میرا شوہر ایک مرتبہ بزرگوں کے پاس سے واپس آیا، تو اس نے کہا کہ یہ بیوی مجھ پر طلاق ہے، تین مرتبہ کہا ، اور اس کے علاوہ بھی اس نے اس سے پہلے بار بار ایسا کہا ہے ،ایک مرتبہ میری بیٹی بہت بیمار تھی،تو میرے شوہر نے کہا کہ اگراپنے اس گھر میں اس کے علاج کےلئے کسی سے پیسے لیے ،تو پشتو میں کہاکہ " نو پہ ما بہ طلاقہ یے"یعنی :تم مجھ پر طلاق ہوگی،تو پیسے نہ ہونے کی وجہ سے میں نے اپنی ساس سے پیسے لیے ، جو اسی گھر میں ہمارے ساتھ رہتی ہے، کیا اس سے طلاق ہوئی؟ اور یہ کہ میرے شوہر کی عادت ہے کہ بات بات پر مجھے طلاق کا کہتا ہے،اور میں وہ کام کرلیتی ہوں، ایسا تین مرتبہ سے زیادہ ہواہے، مثلاً ایک مرتبہ کہاکہ اگر آج کے بعد میں مرچ لایا اور آپ نے اسے نہیں رکھا تو تمہیں طلاق ہو ، ،اسی طرح کہا کہ اگر آج کے بعدتم نے کھانا پکایا تو تمہیں طلاق، تو کچھ دن تو میں نے نہیں پکایا لیکن بعد میں پکانا شروع کیا، تو آپ لوگوں سے گزارش ہے کہ آپ بتائیں کہ یہ طلاق ہوئی یا نہیں؟اب مجھے کیا کرنا چاہیئے ؟
سوال میں ذکر کردہ وضاحت اگر واقعۃً درست اور مبنی برحقیقت ہو ،اس میں کسی بھی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کا م نہ لیا گیا ہو، اس طور پر کہ سائلہ کے شوہر نے واقعۃً اسے مذکور الفاظ " یہ بیوی مجھ پر طلاق ہے" بقیہ الفاظِ طلاق سے پہلے تین مرتبہ کہہ دیے ہوں تواس سے سائلہ پر تینوں طلاقیں واقع حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، جبکہ بقیہ الفاظِ طلاق محل نہ ہونے کی وجہ سے لغو ہو چکے ہیں ،اب رجوع نہیں ہوسکتا ،اور بغیر حلالۂ شرعیہ کے دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا،لہذا دونوں میاں بیوی پر لازم ہےکہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں، اورمیاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہونگے،جبکہ سائلہ ایّام عدت گزارنے کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
کمافی تنزیل القرآن : {فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ اھ (سورۃ البقرۃ /230)۔
وفي صحيح البخاري: عن عائشة،" ان رجلا طلق امراته ثلاثا فتزوجت، فطلق، فسئل النبي صلى الله عليه وسلم: اتحل للاول؟ قال:لا حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الاول".(5261)۔
وفی بدائع الصنائع : وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر (3/187)۔