کیا فرماتے ہیں علماءِ کرامِ مندر جہ ذیل مسئلہ میں کہ میری بیٹی۔۔۔ کا نکاح مسمی ۔۔۔ سے تقریباً 11–12 سال قبل ہو گیا تھا، اس نکاح سے ایک بیٹی بھی ہے، کچھ گھریلو ناچاقی کی وجہ سے میرے داماد ۔۔۔نے میری بیٹی کو وائس میسج کے ذریعے تین طلاق دی کہ”میں تمہیں طلاق دیتا ہوں“ اور پھر اس کے بعد منسلکہ تحریر بھیج دی، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوئی ہیں اور کیا بچی دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے؟ جو بھی حکم شرعی ہو، تحریر فرمائیں۔
سائل کے داماد نےاگرواقعۃً مذکور الفاظ” میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، “ تین مرتبہ واٹس ایپ پر وائس میسج کے ذریعے بھیجے ہوں، جیسا کہ سوال میں مذکور ہے ، تو اس سے اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلّظہ ثابت ہوچکی ہے ، اب رجوع نہیں ہوسکتا اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہوسکتا، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گز قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے، جبکہ سائل کی مذکورہ بیٹی عدت مکمل کرنے کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ۔
و فی الفتاوى الهندية: و إن كان الطلاق ثلاثا فی الحرة و ثنتين فی الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا و يدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا فی الهداية ولا فرق فی ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا فی فتح القدير و يشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل و هو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز. أما الإنزال فليس بشرط للإحلال(1/ 473)۔
فی الھندیۃ: وإذا قال لامرأته أنت طالق وطالق وطالق ولم يعلقه بالشرط إن كانت مدخولة طلقت ثلاثا وإن كانت غير مدخولة طلقت واحدة وكذا إذا قال أنت طالق فطالق فطالق أو ثم طالق ثم طالق أو طالق طالق كذا في السراج الوهاج اھ(الفصل الاول فی الطلاق الصریح ج1 ص355 ط:ماجدیہ)۔
وفی بدائع الصنائع: وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله - عز وجل - {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة؛الخ ( ج3ص 187 فصل وأما حکم البائن ط سعید)۔