کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ میری بہن مسماۃ .... کا نکاح مسمی ...کے ساتھ آج سے تقریباً پانچ چھ سال قبل ہو گیا تھا،شوہر اکثر گھر سے غائب رہتا تھا، اور بیوی پریشان رہتی تھی ،اور مہینوں غائب رہتا، مجبور ہو کر ہم نے ان سے ایک اسٹام پیپر پرایک طلاق نامہ لکھوایا کہ اگر آئندہ میں اپنی بیوی بچوں سے ایک ہفتہ مسلسل غائب رہا تو میری بیوی......مجھ پر طلاق ہوگی، اور تین مرتبہ طلاق ہوگی، اس کے بعد یہ پھر گھر سے غائب ہو گیا ہے، اور جس دن سے یہ تحریر لکھی گئی ہے 2025/9/4 سے یہ دوبارہ گھر سے غائب ہے، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہو گئیں؟ اور آئندہ کیا حکم ہے؟
واضح ہوکہ طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق کرنے کی صورت میں اس شرط کے پائے جانے کے ساتھ معلق طلاق واقع ہوجاتی ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل کے بہنوئی نے اگر خود طلاق نامہ لکھا ہو، یا اس پر دستخط کیے ہوں، یا طلاق نامہ میں مذکور الفاظ ”اگر بیوی بچوں سے کم از کم ایک ہفتہ مسلسل غائب رہا تو میری بیوی...... مجھ پر طلاق ہوگی، اور تین مرتبہ طلاق ہوگی الخ“ کا اقرار کیا ہو تو ایسی صورت میں اس کی بیوی پر تین طلاقیں معلق ہوچکی تھیں، اب اس کے بعد شوہر مذکور تاریخ 2025/9/4 سے ایک ہفتہ اگر مسلسل غائب ہو، جیسا کہ سوال میں مذکور ہے، تو اس کی بیوی پر معلق تین طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، اب رجوع نہیں ہوسکتا، اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا، جبکہ عورت ایامِ عدت گزرنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔
کما فی أحکام القرآن للجصاص: قال أبو بکر: قولہ تعالی: (الطلاق مرتان فإمساک بمعروف أو تسریح بإحسان)الآیۃ، یدل علی وقوع الثلاث مع کونہ منھیا عنھا الخ(ج 1، ص 386)۔
وفی المصنف لابن أبی شیبۃ: حدثنا جریر، عن مغیرۃ، عن ابراھیم قال: إذا کتب الطلاق بیدہ، وجب علیہ الخ(کتاب الطلاق، باب فی الرجل یکتب طلاق امرأتہ بیدہ، ج 9، ص 562، ط: ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیۃ)۔
وفی الدر المختار: (وتنحل) الیمین (بعد) وجود (الشرط مطلقاً) لکن ان وجد فی الملک طلقت وعتق وإلا لا الخ(باب التعلیق، ج 3، ص 355، ط: سعید)۔
وفیہ أیضاً: ولو أقر بالطلاق کاذبا أو ھازلا وقع قضاء لا دیانۃ الخ(کتاب الطلاق، ج 3، ص 236، ط: سعید)۔
وفیہ أیضاً: کتب الطلاق، ان مستبیناً علی نحو لوح وقع ان نوی (إلی قولہ) و لو کتب علی وجہ الرسالۃ و الخطاب، کأن یکتب یا فلانۃ: إذا أتاک کتابی ھذا فأنتِ طالق طلقت بوصول الکتاب جوھرۃ الخ
وفی الشامیۃ تحت:(قولہ طلقت بوصول الکتاب) أی الیھا (إلی قولہ) ولو قال للکاتب: اکتب طلاق إمرأتی کان اقرار بالطلاق وإن لم یکتب، ولو استکتب من آخر کتاباً بطلاقھا و قرأہ علی الزوج فأخذہ الزوج و ختمہ و عنونہ و بعث بہ الیھا فأتاھا وقع إن أقر الزوج أنہ کتابہ أو قال للرجل ابعث بہ الیھا الخ(کتاب الطلاق، ج 3، ص 246، ط: سعید)۔
وفی الھندیۃ: وان کان الطلاق ثلاثا فی الحرۃ وثنتین فی الأمۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجاً غیرہ نکاحاً صحیحاً ویدخل بھا ثم یطلقھا أو یموت عنھا کذا فی الھدایۃ الخ(فصل فیما تحل بہ المطلقۃ الخ، ج 1، ص 473، ط: ماجدیۃ)۔