السلام علیکم !میرا سوال یہ ہے کہ اگر مرد اپنی بیوی کو تین طلاق دے چکا ہو ،اور عدت کا ٹائم پیریڈ بھی گزر چکاہو،تو اس کے بعد جیسے ڈاکٹر ذاکر نائیک کا بیان موجود ہے یو ٹیوب پر کہ اسی عورت کے ساتھ دوبارہ نئے مہر کے ساتھ نکاح کر کے ایک ساتھ رہ سکتے ہیں ،اس بارے میں آپ کی رائے اور فتوی درکار ہے اگر ایسا ممکن ہے تو گزارش ہے کہ مہربانی کرکے مجھے فتوی دیں ۔
واضح ہو کہ اگر کوئی شخص واضح الفاظ (جیسے تجھے طلاق یا میں تمہیں طلاق دیتاہوں وغیرہ الفاظ) کے ساتھ اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیدے، تو اس سے قرآن و حدیث کے متعدد واضح نصوص کی روشنی میں نیز صحابہ کرام اور ائمہ اربعہ کے نزدیک بالاتفاق اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمت ِمغلظہ ثابت ہو جائی گی اس کے بعد دورانِ عدت رجوع اور عدت گزرنے کے بعد حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا، جبکہ عورت عدت گزارنے کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہو گی۔
کماقال اللّٰہ تعالیٰ : فَإِنْ طَلَّقَھا فَلاَ تَحِلُّ لَہٗ مِنْ بَعْد حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہٗ الایۃ(البقرۃ آیت : ،230)۔
و فی صحیح البخاری:وقال اللیث عن نافع کان ابن عمر إذا سئل عمن طلق ثلاثا قال: قال لوطلقت مرۃ أو مرتین فإن النبي صلی اﷲ علیہ وسلم أمرني بھذا فإن طلقھا ثلاثا حرمت حتی تنکح زوجا غیرہ۔ (کتاب الطلاق ج:2,ص:292)۔
وفى الصحيح لمسلم: عن عائشة رضى الله عنها أنها سألت عن الرجل يتزوج المرأة فيطلقها ثلاثاً فقالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : لا تحل للأول حتى يذوق الآخر عسيلتها و تذوق عسيلته۔الحدیث (باب لاتحل المطلقة ثلاثاً حتى تنكح زوجاً غيره، رقم:1433)۔
وفی الھدایۃ:وان کان الطلاق ثلاثافی الحرۃ واثنتین فی الامۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجاغیرہ نکاحا صحیحاً ویدخل بھا ثم یطلقھا اویموت عنھا الخ(ج:2،ص:399) ۔
و فی الھندیۃ : وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية الخ (ج:1،ص:473،ط: ماجدیۃ)۔
و فی بدائع الصنائع: و أما الطلاقات الثلاث فحکمھا الأصلی ھو زوال الملک و زوال حل المحلیۃ أیضا حتی لا یجوز لہ نکاحھا قبل التزوج بزوج آخر لقولہ عزوجل فإن طلقھا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ و سواء طلقھا ثلاثا متفرقۃ أو جملۃ واحدۃ الخ ( فصل و أما حکم الطلاق البائن ج 3 ، ص 187 ، ط: سعید ) ۔