کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ میں مسمی ....اور میری بیوی ......کے درمیان طلاق کے متعلق کچھ باتیں ہو ئیں جس کے متعلق دونوں میاں بیوی کا اختلاف ہے۔
بیوی مسماۃ .......کا حلفیہ بیان : میں اللہ کو حاضر ناظر جان کر یہ حلفیہ بیان دی رہی ہوں کہ جو کچھ میں کہوں گی سچ کہوں گی ، اگر میں نے اپنے بیان میں جھوٹ اور دروغ گوئی سے کام لیا تو اس کا عذاب اور ملال مجھ پر ہوگا ، رات کے وقت میرے شوہر نے مجھے کہا: کہ تہ صبا غرمے نہ اودشوےنو پہ بہ ما طلاقہ ئے(اگر تم کل دوپہر سے سوگئی تو تم مجھ پر طلاق ہو گی) ۔ میں نے کہا ایسا نہ بولو ورنہ ایسا ہوجائیگا، تو میرے شوہر نے دوبارہ بعینہ یہی جملہ دوہرایا میں نے پھر کہا ایسا نہ بولو یہ ہوجائیگا، تو اس نے جواب میں کہا ”ہوجائے، کل قصداً سوجاؤ اور ماں کی گھر چلی جاؤ“۔
شوہر مسمّی ......کا حلفیہ بیان : میں ..... کو حاضر ناظر جان کر یہ حلفیہ بیان دے رہا ہوں کہ میں جو کچھ کہوں گا سچ کہوں گا ، اگر میں نے اپنے بیان میں جھوٹ اور دروغ گوئی سے کام لیا تو اس کا عذاب اور ملال مجھ پر ہوگا ،” میں نے رات کے وقت اپنی بیوی کویہ کہا: کہ تہ صبا غرمے نہ اودشوےنو پہ ما طلاقہ ئے“(اگر تم کل دوپہر سے سوگئی تو تم مجھ پر طلاق ہو گی) ۔ تو میری بیوی نے کہا کہ ایسا مت بولو یہ ہوجائیگا، تو میں نے کہا ”اودہ شی صبا دقصدہ او ددہ شہ اور مور کرہ لاڑہ شہ “ ( کل قصداً سوجاؤ اور ماں کی گھر چلی جاؤ)۔اور اس وقت میں غصہ میں تھا مجھے کوئی نیت وغیرہ کا علم نہیں ہے کہ کس نیت سے ی آخری جملہ بولا تھا،
شوہر.....کی والدہ محترمہ بھی ذاکر کے بیان کی تائید کرتی ہے ۔
اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوئیں اور اب آئند ہمارے لئے کیا حکم ہے ؟ نیز اس کے بعد کل مطلب تیسرے دن بیوی دوپہر تین بجے سوگئی تھی۔
مفتی غیب نہیں جانتا بلکہ وہ سوال کے مطابق جواب دینے کا پابند ہوتا ہے، اور سوال کی دنیاوی واخروی جوابدہی اور ذمہ داری سوال کرنے والے پر ہی عائد ہوتی ہے، اس مختصر تمہید کے بعد واضح ہوکہ صورتِ مسئولہ میں زوجین کے متفقہ بیان کے مطابق جب شوہر نے اپنی بیوی کو مذکور جملہ کہ تہ صبا غرمے نہ اودشوےنو پہ ما طلاقہ ئے(اگر تم کل دوپہر سے سوگئی تو تم مجھ پر طلاق ہو گی) کہے تو اس سے ان کی بیوی پر ایک طلاق دوپہر کے وقت سونے کے ساتھ معلق ہوچکی تھی ۔ اور مسماۃ .... کے تیسرے دن دوپہر کے وقت سونے کی وجہ سے بہر حال ایک طلاق تو واقع ہوچکی ہے۔
جبکہ بیوی اس موقع پر جملہ دو دفعہ دہرانے کا دعوی کر رہی ہے، اور خاوند اس سے منکر ہے، تاہم بیوی کے پاس اپنے اس دعوی پر شرعی شہادت موجود نہیں ہے، اس لئے قضاءً شوہر ہی کے قسم کا اعتبار کیا جائے گا، اور چونکہ صورتِ مسئولہ میں خاوند نے حلفیہ دوسرے جملہ کی ادائیگی سے انکار کر دیاہے، اس لئے مذکور صورت میں صرف ایک طلاق ہی واقع ہو کر مذکور تعلیق و شرط ختم ہو چکی ہے ، دوبارہ دوپہر کے وقت بیوی کے سونے کی وجہ ان پر مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی، جس کے بعد شوہر کو دورانِ عدت رجوع کا اختیار حاصل ہے
لہذا شوہراگر دورانِ عدت(تین ماہواری مکمل ہونے سے قبل )زبانی طور پر رجوع کر لے کہ مثلاً میں رجوع کرتا ہوں وغیرہ یا عملاً میاں بیوی والے تعلقات قائم کر لے یا شہوت کے ساتھ بیوی کو چھولے تو اس سے بھی رجوع درست ہو جائے گا اور دونوں کا نکاح حسبِ سابق برقرار رہے گا ، ورنہ دورانِ عدت رجوع نہ کرنے کی صورت میں عدت گزرنے پر دونوں کا نکاح ختم ہو جائے گا اور عورت دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہو گی اور اس کے بعد دوبارہ ایک ساتھ رہنے کے لئے باقاعدہ شرعی گواہان کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ ایجاب و قبول کر کے تجدیدِ نکاح لازم ہو گا ، لیکن اگر شوہر نے آئندہ ایک طلاق بھی دیدی ، تو ایسی صورت میں اس طلاق کے ذریعہ بیوی کے حق میں دیانتاً تین طلاقیں واقع حرمت مغلظہ ثابت ہوجائے گی، اس لئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط لازم ہے۔
کما فی الدر: (و) نصابها (لغيرها من الحقوق سواء كان) الحق (مالا أو غيره كنكاح وطلاق ووكالة ووصية واستهلال صبي) ولو (للإرث رجلان) إلا في حوادث صبيان المكتب فإنه يقبل فيها شهادة المعلم منفردا قهستاني عن التجنيس (أو رجل وامرأتان) الخ۔ (کتاب الشھادۃ، ج: 5، ص: 465، ط: سعید)۔
وفیہ ایضاً: إذا کان الطلاق بائنا دون الثلاث فلہ أن یتزوجھا فی العدۃ وبعد انقضائھا الخ ( فصل فیما تحل بہ المطلقۃ وما یتصل بہ، ج1، ص506، ط: دارالکتب العلمیۃ)۔
وفیہ أیضاً(وفيها) كلها (تنحل) أي تبطل (اليمين) ببطلان التعليق (إذا وجد الشرط مرة إلا في كلما فإنه ينحل بعد الثلاث) لاقتضائها عموم الأفعال الخ
وفی الشامیۃ تحت: (قوله أي تبطل اليمين) أي تنتهي وتتم، وإذا تمت حنث فلا يتصور الحنث ثانيا إلا بيمين أخرى لأنها غير مقتضية للعموم والتكرار لغة نهر (قوله ببطلان التعليق) فيه أن اليمين هنا هي التعليق الخ (مطلب فی الفاظ الشرط، باب التعلیق، ج: 3، ص: 352، ط: سعید)۔
وفی تبیین الحقائق: قال رحمہ اللہ: (ھی استدامۃ القائم فی العدۃ) أی الرجعۃ إبقاء النکاح علی ماکان ما دامت فی العدۃ لأن النکاح قائم لقولہ تعالی: (وبعولتھن أحق بردھنّ۔ البقرۃ 228) أی لھم حق الرجعۃ لا أن یکون لھا أو للاجنبی حق فیکون البعل أولی لانھا لیس لھا أن تمتنع البتۃ ولا للاجنبی أن یتزوجھا ما دام حقہ باقیا وھذہ الآیۃ تدل علی شرعیۃ الرجعۃ وعدم رضاھا بھا واشتراط العدۃ لان بعد انقضائھا لا یسمی بعلا ولا لہ حق بل ھو والأجنبی فیھا سواء الخ (باب الرجعۃ، ج1، ص149، ط: داراالکتب العلمیۃ)۔