کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
میں ڈپریشن اور غصہ کا بیمار ہوں، میرا علاج بھی چل رہا ہے، پچھلے ایک سال سے اپنے سسر کے ساتھ کاروباری مسائل چل رہے ہیں۔ اب حالیہ دنوں میں سسر کے پاس کام کرنے والے نوکر کی وجہ سے بات مزید بڑھی، مجھے ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے نوکر کی وجہ سے میرا کاروبار بند کیا، تو میں نے اپنے سسر کو فیملی واٹس ایپ گروپ میں میسیج کیا کہ: ”اگر آدھے گھنٹہ میں نوکر کو نہیں نکالا تو میری طرف سے آپ کی بیٹی کو طلاق ہے“۔ لیکن آدھے گھنٹے تک کوئی جواب نہیں آیا، میں نے مزید دس منٹ انتظار کیا، اس کے بعد مجھے غصہ آیا اور میں نے اسی گروپ میں دوسرا وائس میسیج کیا جس میں، میں نے کہا کہ ” میںاپنے پورے ہوش و حواس میں فلانۃ بنت فلاں کو آج 29 نومبر بروز ہفتہ کو طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں “۔ اس کی وجہ سسر اور ان کا نوکر ہے، جس کی وجہ سے میرا کاروبار اور گھر تباہ ہوا۔
اب سوال یہ ہے کہ ڈپریشن کی حالت میں میڈیسن کی زیادہ ڈوز لینے کی وجہ سے بغیر نیت کے تاکید کرنے کےلئے ان کو یہ وائس میسیج سینڈکیا۔ میرا طلاق کا کوئی ارادہ نہیں تھا، اس وقت میں حالتِ جنون میں تھا۔ اس بارے میں ہماری شرعی رہنمائی فرمائیں؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر میرے سسر نے مصروفیت کی وجہ سے یا لا علمی کی وجہ سے وہ وائس میسیج نہ سنی ہو یا اس وجہ سے نہ سنا ہو کہ میں ایک پیشنٹ ہوں اور اس طرح کا کوئی میسیج نہیں کروں گا تو کیا ایسی صورت میں طلاق واقع ہوگئی؟
واضح ہوکہ صریح الفاظ میں طلاق دینے کے لیے نیت شرط نہیں ہوتی، بلکہ الفاظ ِ طلاق اداکرتےہی طلاق واقع ہوجاتی ہے،نیزغصہ کی حالت بھی وقوع ِطلاق سے مانع نہیں بنتی ، لہٰذا صورتِ مسؤلہ میں سائل نے جب اپنے سسر کے نام ان صریح الفاظ میں ”اگر آدھے گھنٹہ میں نوکر کو نہیں نکالا تو میری طرف سے آپ کی بیٹی کو طلاق ہے“واٹس ایپ پر وائس میسیج کردیا اورسائل کے سسرنے آدھے گھنٹے میں مذکور ایس ایم ایس نہ دیکھا ہو اور نہ ہی اسے میسیج کا علم ہو تو ایسی صورت میں مذکور جملہ سے تو کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، البتہ اس کے بعد جوالفاظ ” میں اپنے پورے ہوش و حواس میں فلانہ بنت فلاں کو آج 29 نومبر بروز ہفتہ کو طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں “ کہے ہیں تو اس سے سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، چنانچہ اب رجوع نہیں ہوسکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا، لہٰذا دونوں پر لازم ہےکہ فی الفور علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے، اور اب تک میاں بیوی کی حیثیت سے جتناعرصہ اکٹھے گزاراہے اس پربصدقِ دل توبہ و اسغفار بھی کریں ، جبکہ سائل کی بیوی عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔
کما فی الدر المختار: وشرط صحتہ کون الشرط معدوما علی خطر الوجود( إلی قولہ) (إمکان تصور البر فی المستقبل شرط انعقاد الیمین) ولو بطلاق(إلی قولہ) (حلف لا یکلمہ فناداہ وھو نائم فأیقظہ) فلو لم یوقظہ لم یحنث(إلی قولہ) ولو قال: یا حائط اسمع أو اصنع کذا وکذا وقصد إسماع المحلوف علیہ لم یحنث (إلی قولہ)(أو) حلف لا یکلمہ (إلا بإذنہ فأذن لہ ولم یعلم) بالإذن فکلمہ (حنث) لاشتقاق الإذن من الأذان فیشترط للعلم بخلاف لا یکلمہ إلا برضاہ فرضی ولم یعلم لأن الرضا من أعمال القلب فیتم بہ إلخ۔
و فی الشامیۃ: تحت (قولہ لغو) وھذا یرجع إلی قولھما إمکان البر شرط انعقاد الیمین خلافا لأبی یوسف۔ وعلی ھذا ظھر ما فی الخانیۃ: لو قال لھا إن لم تردی علی الدینار الذی أخذتیہ من کیسی فأنت طالق فإذا الدینار فی کیسہ لا تطلق بحر، ومنہ ما فی القنیۃ: سکران طرق الباب فلم یفتح لہ فقال إن لم تفتحی الباب اللیلۃ فأنت طالق ولم یکن فی الدار أحد لا تطلق نھر إلخ۔
وفیھا أیضاً: تحت (قولہ إمکان تصور البر) قال فی المنح: کل ما وقع فی ھذہ المسائل من لفظ تصور فمعناہ ممکن ولیس معناہ متعقل اھ فالصواب حینئذ إسقاط تصور کما ھو فی بعض النسخ ط۔ قلت: لکن عبر فی البحر وعلیہ فالمراد بتصورہ کونہ ذا صورۃ أی کونہ موجودا فالمراد إمکان وجودہ فی المستقبل أی إمکانہ عقلا وإن استحال عادۃ احترازا عما لا یمکن عقلا ولا عادۃ کما فی المثال الآتی فھذا لا تنعقد فیہ الیمین ولا تبقی منعقدۃ بخلاف ما أمکن وجودہ عقلا وعادۃ أو عقلا فقط مع استحالتہ عادۃ کما فی مسئلۃ صعود السماء وقلب الحجر ذھب فإنھا تنعقد (إلی قولہ) (قولہ إذ لا بد من تصور الأصل إلخ) بیانہ أن الیمین إنما تنعقد لتحقیق البر فإن من أخبر بخبر أو وعد بوعد یؤکدہ بالیمین لتحقیق الصدق فکان المقصود ھو البر ثم تجب الکفارۃ خلفا عنہ لرفع حکم الحنث، وھو الإثم لیصیر بالتکفیر کالبار، فإذا لم یکن البر متصورا لا تنعقد فلا تجب الکفارۃ خلفا عنہ لأن الکفارۃ حکم الیمین، وحکم الشئ إنما یثبت بعد انعقادہ کسائر العقود وتمامہ فی شرح جامع الکبیر۔ ثم اعلم أن ھذا الأصل وما فرع علیہ قولھما۔ وقال أبو یوسف: لا یشترط تصور البر إلخ۔(کتاب الأیمان، ج 3، ص 342۔792، ط: سعید)۔
وفی البحر الرائق:ولو أذن لھا بالعربية، ولا عھد لھا بالعربية فخرجت حنث كما لو أذن لھا، وهي نائمة أو غائبة لم تسمع فخرجت حنث، وقال بعضھم هذا قول أبي حنيفة ومحمد أما على قول أبي يوسف وزفر يكون إذنا، وقال بعضھم الإذن يصح بدون العلم والسماع في قولھم، وإنما الخلاف بينھم في الأمر على قول أبي حنيفة ومحمد لا يثبت الأمر بدون العلم والسماع والصحيح أن على قولھما لا يكون الإذن إلا بالسماع؛ لأن الإذن إيقاع الخبر في الإذن وذلك لا يكون إلا بالسماع إلخ۔ (باب الیمین فی الدخول و الخروج، ج 4، 340، ط:دارالکتاب الإسلامی)۔
وفی بدائع الصنائع: وأما کون الزوج طائعا فلیس بشرط عند أصحابنا و عند الشافعی شرط حتی یقع طلاق المکرہ عندنا و عندہ لا یقع إلخ۔ (کتاب الطلاق، فصل وأما شرائط الرکن، ج 3، ص 100، ط: ایچ۔ایم۔سعید)۔
وفی الھدایۃ: الطلاق علی ضربین: صریح و کنایۃ، فالصریح قولہ: أنت طالق، و مطلقۃ و طلقتک، فھذا یقع بہ الطلاق (إلی قولہ) و إن کان الطلاق ثلاثا فی الحرۃ، أو ثنتین فی الأمۃ: لم تحل لہ حتی تنکح زوجا غیرہ نکاحا صحیحا، و یدخل بھا، ثم یطلقھا أو یموت عنھا: و الأصل فیہ قولہ تعالیٰ: (فإن طلقھا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ) و المراد الطلقۃ الثالثۃ، و الثنتان فی حق الأمۃ کالثلاث فی حق الحرۃ (إلی قولہ) و ھو قولہ علیہ الصلاۃ و السلام: (لا تحل للأول حتی تذوق عسیلۃ الآخر) إلخ۔ (فصل فیما تحل بہ المطلقۃ، ج 2، ص 61۔96، ط: انعامیۃ)۔