محترم مفتی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔میں آپ سے ایک معاملہ میں فتوی لینا چاہتی ہوں میرے اور میرے شوہر کے درمیان صورت حال کچھ یوں ہےمیں نے ا ن سے طلاق مانگی اور درخواست کی کہ وہ ایک مشروط طلاق دےیعنی اگر وہ دوبارہ نکاح کرے تو ہر بار دو طلاقیں واقع ہوں اسوقت وہ فون پر تھے اور کسی گاہک سے بات کر رہے تھےانہوں نے کہا ٹھیک ہے۔ صبر کرو ،میں آتاہو،میں نے بار بار ان سے کہا کہ فورا طلاق دے دیں مگر انہوں نے کہا کہ وہ ابھی کال پر ہے بعد میں بات کریں گےبعد میں انہوں نے مجھے فون کر کے واضح طور پر کہا میں طلاق نہیں دونگا ،میں نے صرف ٹھیک ہے اس لئیے کہا تھا کہ تاکہ تم خاموش ہوجاؤمیرا طلاق دینے کا کوئی ارادہ نہیں تھا اب میرے سوالات یہ ہیں کیا ٹھیک ہے کہنے سے طلاق واقع ہوگئ؟ اگر شوہر کی نیت طلاق دےنے کا نہ ہو تو کیا طلاق واقع ہوجاتی ہے؟کیا بیوی کی درخواست سےخود بخود طلاق واقع ہوجاتی ہے؟کیا ہمارا نکاح اب بھی باقی ہے؟براہ کرم فقہ حنفی کے مطابق واضح فتوی عطاء فرمائے شکریہ
واضح ہو کہ صورت مسئولہ میں سائلہ کے مطالبہ طلاق کے جواب میں شوہر نے جب کہا کہ ''ٹھیک ہے صبر کرو ،میں آتا ہوں؛تو یہ چونکہ گھر آکر طلاق دینے کا وعدہ تھا اسی وقت موقعہ پر ہی طلاق دینے کی غرض سے بیوی کے مطالبے کا جواب نہیں تھا(جیسا کہ کلام اور گفتگو سے اور بعد میں خود شوہرکی وضاحت سے معلوم ہو رہاہے)اس لیئے اس سےکوئی طلاق واقع نہیں ہوئی جبکہ محض بیوی کے مطالبے سے طلاق واقع نہیں ہوتی جب تک شوہر طلاق واقع نہ کرے،لہذا سائلہ اور اسکےشوہر کانکاح بدستور برقرار ہےاور دونوں میاں بیوی کی طرح ازدواجی زندگی گزارسکتے ہیں تاہم آئیندہ سائلہ کو چاہیئےکہ شوہر کے ساتھ معاملات اور اختلاف کی صورت میں طلاق کے مطالبے میں جلد بازی کا مظاہرہ نہ کرے تاکہ بعد کی پیشمانی اور افسوس سے بچا جا سکے۔
کما فی الدر المختار: هو) لغة رفع القيد لكن جعلوه في المرأة طلاقا وفي غيرها إطلاقا، فلذا كان أنت مطلقة بالسكون كناية وشرعا (رفع قيد النكاحفي الحال) بالبائن (أو المآل) بالرجعي (بلفظ مخصوص) هو ما اشتمل على الطلاق، فخرج الفسوخ كخيار، عتق وبلوغ وردة فإنه فسخ لا طلاق،(ج:3،ص:226)
وفی الھندیۃ: ولو قالت أنا طالق فقال نعم طلقت ولو قاله في جواب طلقني لا تطلق وإن نوى قيل لرجل ألست طلقت امرأتك فقال بلى تطلق كأنه قال طلقت لأنه جواب الاستفهام بالإثبات ولو قال نعم لا تطلق لأنه جواب الاستفهام بالنفي كأنه قال ما طلقت كذا في الخلاصة(ج:1،ص:356