السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ،عرض ہے کہ میں ایک اہم خاندانی مسئلے کے بارے میں شرعی رہنمائی چاہتا ہوں، میں نے اپنی مرضی سے ایک بیوہ خاتون سے دوسری شادی کی تھی ،شادی کے بعد میرے گھر والوں اور پہلی بیوی کی طرف سے شدید دباؤ ڈالا گیا ،حتی کہ میرے بیٹے نے خود کشی کی کوشش کی اور مجھے یہ دھمکی دی گئی کہ وہ میری دوسری بیوی اور اس کی والدہ کو نقصان پہنچا دیں گے، ایسے سخت دباؤ اور خوف کی وجہ سے میں نے اسٹامپ پیپر پر دستخط کر دیئے،جنہیں میں نے نہ پڑھا تھا اور وہ کاغذات دوسری بیوی کے گھر رکھوا دیئے،
دو دن بعد میں نے ان کو فون پر ان کاغذات کے بارے میں بتایا اور پھر میں نے اپنی بیوی کے نمبر پر ایک وائس میسج بھی بھیج دیا، جس میں میں نے کہا کہ میں نے طلاق کےکاغذات رکھے ہیں اور میں نے تمہیں طلاق دے دی ہے، فارغ کر دیا ہےاور آج کے بعد میرا تم سے کوئی تعلق نہیں ۔
مفتی صاحب !میں ان تمام معاملے پر سخت شرمندہ ہوں ، یہ سب گھروالوں کے دباؤ ،جان کے خوف اور ذہنی اضطراب میں ہوا ،اب میں سچے دل سے چاہتا ہوں کہ اپنی غلطی کی تلافی کروں اور اپنی دوسری بیوی کو تحفظ دے سکوں۔
واضح ہو کہ جس طرح زبانی طلاق دینے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے، اسی طرح تحریر ی طورپر طلاق دینے یا اسٹام پیپر پر لکھی ہوئی طلاق (طلاق نامہ) پر دستخط کرنے سے بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل کے منسلکہ تین طلاقوں پر مشتمل طلاق نامہ پر دستخط کرنےسے اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، اب رجوع نہیں ہوسکتا، اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدنکاح بھی نہیں ہوسکتا،لہٰذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اورمزید میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گنہگار ہوں گے، جبکہ عورت ایام عدت کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
اورحلالہ شرعیہ یہ ہے کہ عورت اپنے شوہر سے علیحدگی اور عدتِ طلاق گزارنے کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی دوسر ے مسلمان شخص سے اپنا عقد ِ نکاح کرے ، چنانچہ اگر وہ دوسرا شخص بھی اس سےایک مرتبہ ہمبستری (جوکہ حلالۂ شرعیہ کےتحقق لئے ضروری ہے)کے فورا ً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا بیوی سے پہلے شوہر کا انتقال ہوجائے ، بہر صورت اس کی عدت گزرنے کے بعد وہ پہلے شوہر کے عقدِ نکاح میں آنا چاہے اور پہلا شوہر بھی اسے رکھنے پر رضامند ہو تو نئے مہر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقدِ نکاح کرکے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کرسکتے ہیں ، تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوج ِثانی نکاح کے بعد طلاق دے تاکہ زوج اول کیلئے عورت دوبارہ حلال ہوجائے ، مکروہِ تحریمی ہے اور احادیث مبارکہ میں ایسا عمل کرنے والوں کو ملعون قرار دیا گیا ہے ، البتہ بغیر شرط کے بلاشبہ جائز اور درست ہے ۔
کما قال اللہ تعالیٰ : فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَاتَحِلَّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ (البقرۃ:230)۔
وفی صحیح البخاری : و قال الليث: حدثني نافع، قال : كان ابن عمر، إذا سئل عمن طلق ثلاثا، قال: لو طلقت مرة أو مرتين، فإن النبي صلى الله عليه و سلم أمرني بهذا، فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرك الخ(باب من قال لامرأتہ انت علیّ حرام،ج3،ص2393،ط:بشری)۔
وفی الشامیۃ:الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة، ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب (إلی قولہ) وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة. وإن علق طلاقها بمجيء الكتاب بأن كتب: إذا جاءك كتابي فأنت طالق فجاءها الكتاب فقرأته أو لم تقرأ يقع الطلاق كذا في الخلاصة الخ (کتاب الطلاق،ج3،ص 246،ط:سعید)۔
وفی الھندیۃ: إن كان الطلاق ثلاثا في الحرة و ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا و يدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية الخ(فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به،ج1،ص 473،ط: ماجدیۃ)۔