میں نے اپنے شوہر سے غصے میں کہا کہ مجھے طلاق چاہیے، طلاق چاہیے، اور میرے شوہر نے غصے میں مجھے دو بار کہا کہ میں نے تمہیں طلاق دی، تو کیا یہ طلاق ہوئی ہے یا نہیں؟ براہِ کرم مجھے اس کے بارے میں بتائیں۔
سائلہ کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو ، اور اس میں کسی طرح کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو ، تو مذکور الفاظ سے سائلہ پر پر دو طلاقِ رجعی واقع ہوچکی ہیں ، جن کا حکم یہ ہے کہ سائلہ کے شوہر کو دروانِ عدت رجوع کا حق حاصل ہے ، چنانچہ شوہر اگر دورانِ عدت قولاً یا عملاً رجوع کرلیتا ہے تو یہ رجوع درست ہو گا اور میاں بیوی کا نکاح حسبِ سابق بر قرارر رہے گا، ورنہ عدت کے دوران رجوع نہ کرنے کی صورت میں یہ رجعی طلاقیں بائن بن جائیں گی اور اس سے دونوں کا نکاح ختم ہو جائے گا ، جس کے بعد دوبارہ میاں و بیوی کی طرح ساتھ رہنے کے لئے باقاعدہ گواہان کی موجود گی میں باہمی رضامندی سے نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ باضابطہ ایجاب و قبول کرتے ہوئے تجدیدِ نکاح لازم ہوگا، بہردو صورت آئندہ کے لئے سائلہ کے شوہر کو فقط ایک طلاق کا اختیار ہوگا ، اس لئے آئندہ طلاق کےمعاملہ میں خوب احتیاط سے کام لینا چاہیئے۔
کما في الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي: يقع الطلاق باللفظ الصريح بدون حاجة إلى نية أو دالة حال، فلو قال الرجل لزوجته: أنت طالق، وقع الطلاق، ولا يلتفت لادعائه أنه لا يريد الطلاق. (9/ 6899)۔
في الھداية : اذا طلق الرجل امراته تطليقة رجعية او تطليقتين فله ان يراجعها في عد تھارضيت بذلك اولم ترض (1/470)۔