ایک غیر شادی شدہ شخص جو وسوسہ میں مبتلا ہے، OCD بھی ہے وہ بار بار یہ سوچتا رہا کہ شاید اُس نے طلاق کو کسی بات پر معلق (مشروط) کر دیا ہے۔ اس وسوسے کی حالت میں اُس نے کئی علماء سے رابطہ بھی کیا، اور علماء سے زبانی بھی پوچھا کہ میں نے اس طرح کہا ہے طلاق کے الفاظ ادا کرکے اور تحریری طور پر بھی، مگر بعد میں کچھ عرصہ بعدجب اُس کی طبیعت بہتر ہوئی وسوسہ نے اس کے ذہن کو مخلوط،اور خراب کیا تھا(بعد میں جب ذہن نارمل ہوا)،وساوس کے بارے میں علم حاصل کیا تو اُسے محسوس ہوا کہ اُس نے درحقیقت طلاق کا کوئی الفاظ نہیں بولا تھا، صرف ذہنی الجھن یا وسوسے کی بنیاد پر سوالات طلاق کا مسئلہ علماء سے پوچھا، تو کیا اس سے طلاق ہو جاتی ہے ؟ اگر چہ حقیقت میں طلاق کا کوئی ارادہ کچھ نہیں تھا ۔
اب اس شخص کو اس بات پر وہم وشک ہوتا ہے کہ پہلے تو کچھ بھی نہیں تھا ،اب تو بول بھی دیا، علماء سے پوچھ بھی لیا ،اگر چہ یہ اس بندے نے وہم اور وسوسہ کے وجہ سے بولا تھا علماء سے پوچھا تھا، تسلی بخش جواب عطا فرمائیں۔
واضح ہو کہ بغیر الفاظ کہے محض طلاق کا خیال یا وسوسہ آنے سے شرعاً طلاق یاتعلیق ِواقع نہیں ہوتی ،چنانچہ اس شخص کوچاہیےکہ جب وسوسے آئیں تواس کی طرف التفات نہ کرے، بلکہ فوراً ”أعوذ باللہ من الشیطن الرجیم“ پڑھے اور اپنے آپ کو کسی کام میں مصروف کرلے، اگر اس تدبیر پر اہتمام سے عمل کرناشروع کردےگا تو ان شاء اللہ بہت جلد وسوسہ کی بیماری ختم ہوجائے گی ۔
كمافي صحيح البخاريؒ: حدثنا مسلم بن إبراهيم: حدثنا هشام: حدثنا قتادة، عن زرارة بن أوفى، عن أبي هريرةؓ، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:"إن الله تجاوز عن أمتي ما حدثت به أنفسها، ما لم تعمل أو تتكلم" قال قتادة: إذا طلق في نفسه فليس بشيء،(کتاب الطلاق، باب: الطلاق في الإغلاق والكره، والسكران والمجنون وأمرهما، والغلظ والنسيان في الطلاق والشرك وغيره،ج5،ص2020،المرقم:4968،ط:دار ابن کثیر،دمشق)-
وفی الدر المختار: فلا تصح ردة مجنون، ومعتوه وموسوس، وصبي لا يعقل وسكران ومكره عليها،الخ
وفي الرد: تحت (قوله وموسوس) بالكسر ولا يقال بالفتح ولكن موسوس له أو إليه أي تلقى إليه الوسوسة، وقال الليث: الوسوسة حديث النفس، وإنما قيل موسوس لأنه يحدث بما في ضميره وعن الليث لا يجوز طلاق الموسوس قال: يعني المغلوب في عقله، وعن الحاكم هو المصاب في عقله إذا تكلم يتكلم بغير نظام كذا في المغرب، (کتاب الجھاد، باب المرتد،ج4،ص224،ط:ایچ ایم سعید)-