السلام علیکم ورحمۃ اللہ!
اگر ایک عورت کا شوہر اور شوہر کا خاندان اسے زنا (غیر شرعی مباشرت) پر مجبور کرے، اور ایسے مرکز یا جگہ بھیج دے، جہاں اس سے پیشہ ورانہ طور پر (یعنی جسم فروشی کے لیے) پیسے کے عوض زنا کروایا جاتا ہو۔ وہ عورت جاہل اور دیہاتی ہونے کی وجہ سے (بے بسی یا مجبوری کی حالت میں) ایسا کرے تو:
1۔ کیا اس مجبوری اور حالات کی وجہ سے اس عورت کا موجودہ نکاح خود بخود فسخ ہو جائے گا؟
2۔کیا وہ عورت بغیر طلاق لیے (یعنی موجودہ نکاح کی قانونی یا شرعی طور پر علیحدگی کے بغیر) وہاں سے فرار ہو کر دوسرا نکاح کر سکتی ہے؟
صورتِ مسئولہ میں مذکور عمل انتہائی درجہ قبیح ،ناجائز وحرام اور دیوثیت پر مبنی ہے، اور مذکور عورت کیلئے اپنے شوہر یا سسرال کی گناہ کے عمل پر اطاعت کرنا بھی جائز نہیں ہے ،ایسا کرنے سے وہ خود بھی گناہ گار ہورہی ہے ،اس پر لازم ہے کہ وہ فی الفور اس بدکاری کے عمل کو ترک کر کے سابقہ غلطیوں پر ندامت کے ساتھ توبہ کرے اور آئندہ کیلئے اس عمل سے مکمل اجتناب کرے ،تاہم اس کے باوجود مذکور خاتون کا اس عمل کی وجہ سے اپنے شوہر سے نکاح خود بخود ختم نہ ہوگا ،بلکہ اسے ایسے دیوث شخص سے چھٹکارے کیلئے قانونی یا شرعی طریقے سے نکاح ختم کروانا لازم و ضروری ہے ،اس نکاح کو ختم کروائے بغیردوسری جگہ نکاح کرنا شرعاً جائز نہیں ہوگا ۔
کما في رد المحتار تحت: (قوله: فما في الوهبانية إلخ)تفریع علی قوله (إلی قوله) قال في البحر: لو تزوج بامرأة الغير عالما بذلك ودخل بها لا تجب العدة عليها حتى لا يحرم على الزوج وطؤها وبه يفتى لأنه زنى والمزني بها لا تحرم على زوجها اھ(فصل فی المحرمات،ج:3،ص:50،ط:سعید)