میرانام۔۔۔۔ہے، مجھے میری بیوی کے والد نے بولا طلاق دے دو ،ان کے بولنے پر اور اپنے والد کے سامنے تین دفعہ طلاق طلاق طلاق بولا تھا اس وقت والدین کی آپس میں بہت لڑائی تھی ،اس ٹائم میری بیوی میرے پاس نہیں تھی اور نہ میری بیوی سے لڑائی جھگڑا تھا اور طلاق کے الفاظ سےنہ میرا طلاق کا ارادہ تھا اور نہ بیوی کی طرف نسبت کی تھی، کیا میری طلاق ہو گئی ہے؟
صورت مسؤلہ میں جب سائل نے اپنے والد اور سسر کی لڑائی جھگڑے کے دوران سسر کے مطالبہ پر اپنی بیوی کو تین مرتبہ "طلاق طلاق طلاق " کے الفاظ کہہ دییے اگرچہ اس واقعہ کے وقت بیوی وہاں موجود نہ ہو ، تب بھی اس سے سائل کی بیوی پر تینوں طلاق واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے بشرطیکہ ان کے مابین خلوت صحیحہ یا ازدواجی تعلق قائم ہوچکی ہو ۔
کما فی الھندیہ : متى كرر لفظ الطلاق بحرف الواو أو بغير حرف الواو يتعدد الطلاق ( کتاب الطلاق، الباب الثانی، الفصل الاول فی الطلاق الصریح، ج :1 ، ص : 356 ، ط : ماجدیہ )
و فی بدائع الصنائع : وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية ... سواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة. ( کتاب الطلاق ، فصل فی حکم الطلاق البائن ، ج :3 ، ص : 187 ، ط : دار الکتب العلمیۃ)
وفی الدر المختار : لا تخرجی الا باذنی فانی حلفت بالطلاق فخرجت لم یقع لترکہ الاضافۃ الیھا
وفی رد المختار تحت قولہ : ( لترکہ الاضافۃ ) ولا یلزم کون الاضافۃ صریحۃ فی کلامہ ، لما فی البحر لو قال طالق فقیل لہ من عنیت ؟ فقال امراتی طلقت امراتہ ( باب الصریح ، ج : 3 ، ص : 248 ، ط : سعید )