ایک شخص نے کچھ عرصہ پہلے بیوی کو ایک طلاق دی،پھر کچھ عرصہ بعد دو اکھٹی طلاقیں دیں،پہلی طلاق کے بعدرجوع ہوچکا تھا،پھرپانچ چھ مہینہ بعد دوبارہ دوطلاقیں ایک ساتھ دیں جس کیلئے یہ الفاظ کہے ”میں تمہیں طلاق دیتا ہوں“ اس کے بعدبیوی والدین کے پاس آ گئی ، اور خلع کا مقدمہ دائر کرکے طلاق لے لی ،پھر چھ ماہ بعد کسی نے کہا شرعی طلاق نہیں ہوئی ،یہ دو طلاقیں ہیں، دونوں نے کورٹ میں جا کر دوبارہ شادی کر لی،اس کام میں شریعت اور ملکی قوانین کو استعمال کیا گیا،اس پر شرعی پوزیشن کیا بنتی ہے ؟میں اس بات کو سمجھ نہیں پا رہا، آپ کی رہنمائی کی ضرورت ہے ۔لڑکی اہل سنت مسلک ہے۔
واضح ہو کہ مذکورہ بالا بیان اگرواقعۃً مبنی برحقیقت ہو،اس میں کسی بھی قسم کی غلط بیانی اوردروغ گوئی کاسہارانہ لیاگیاہو بایں طورکہ شخصِ مذکور نے اپنی بیوی کو پہلی دفع ایک طلاق دیکر دورانِ عدت رجوع کرلیا تھا تودونوں کا نکاح بدستور برقرارتھا،چنانچہ اس کے بعد اگر مذکور الفاظ”میں تمہیں طلاق دیتا ہوں“ میں دوطلاقیں دیدی ہوں تو اس سے اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا، چنانچہ اس کے بعد کورٹ کےذریعہ جوشادی کرائی گئی وہ شرعاً منعقد نہیں ہوئی ،لہٰذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیا ر کر یں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہونگے،جبکہ عورت عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
اور حلالہ شرعیہ یہ ہے کہ عورت اپنے شوہر سے علیحد گی اور عدتِ طلاق گزارنے کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی دوسرے مسلمان شخص سے نکاح کرے اور حقوقِ زوجیت ادا کرے، چنانچہ اگر وہ دوسرا شخص بھی اس سے ایک مرتبہ ہمبستری (جو کہ حلالہ شرعیہ کے تحقق کے لئے ضروری ہے) کے فوراً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا بیوی سے پہلے شوہر کا انتقال ہو جائے ، بہر صورت اس کی عدت گزرنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے نکاح میں آنا چا ہے اور پہلا شوہر بھی اس کو رکھنے پر رضامند ہو تو نئے مہر کے تقرر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقدِ نکاح کر کے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتے ہیں، تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوجِ ثانی نکاح کے بعد طلاق دے تاکہ زوجِ اول کے لئے عورت دوبارہ حلال ہو جائے مکروہِ تحریمی ہے اور احادیث مبارکہ میں ایسے عمل کرنے والوں کو ملعون قرار دیا گیا ہے، البتہ بغیر شرط کے بلا شبہ جائز اور درست ہے۔
کمافی الھندیۃ: (و أما البدعی) فنوعان بدعی لمعنى يعود إلى العدد، وبدع لمعنى يعود إلى الوقت (فالذی) يعود إلى العدد أن يطلقها ثلاثا فی طهر واحد بکلمۃ واحدۃ أو بكلمات متفرقة أو يجمع بين التطليقتين فی طهر واحد بكلمة واحدة أو بكلمتين متفرقتين فإذا فعل ذلك وقع الطلاق وكان عاصيا، الخ (كتاب الطلاق، الباب الأول فی تفسير الطلاق وركنه و شرطه وحكمه ووصفه وتقسيمه، الطلاق البدعی، ج 1، ص 349، ط: مکتبۃ ماجدیۃ)-
وفیھا ایضاً: وإن كان الطلاق ثلاثا فی الحرة و ثنتين فی الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا فی الهداية،الخ (كتاب الطلاق،الباب السادس: فی الرجعة وفيما تحل به المطلقة وما يتصل به، فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به، ج 1، ص 473، ط: مکتبۃ ماجدیۃ)-