کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں ۔۔۔۔اور اس کے شوہر۔۔۔۔ دونوں کا کہنا ہے کہ اس کا شوہر۔۔۔۔صبح سے بول رہا تھا کہ میں تجھے چھوڑ دوں گا، پھر شام کو میرے بیٹے ۔۔۔ جوکہ 14 سال کا ہے، اس کو بولا کہ میں تمہاری والدہ کو چھوڑ رہا ہوں، اور پھر مجھے بولا کہ آج سے تم میری بہن ہو، بہن ہو، بہن ہو، میرے شوہر تھوڑے سے گونگے ہیں، ان سےصحیح بولا نہیں جاتا، پھر رات کو سسر آئے ، اور کہا کہ ہاں میرے بیٹے نے چھوڑ دیا ہے۔
نوٹ: لڑائی کے وقت ہم میاں بیوی اور بیٹا ایک ہی کمرہ میں تھے، شوہر نے بیٹے کو مخاطب ہوکر بولا کہ ”میں تمہاری والدہ کو چھوڑ چکاہوں“ اس کے بعد میری طرف متوجہ ہوکر کہا کہ ”آج سے تم میری بہن ہو، بہن ہو، بہن ہو، پھر دوسرے کمرہ میں میرا سسر سویا ہواتھا، اس کو بطورِ خبر بتایا کہ میں نے اسے چھوڑ دیا ہے۔
صورتِ مسئولہ میں سائلہ کے شوہر نے اپنے بیٹے سے مخاطب ہوکر مذکور الفاظ” میں تمہاری والدہ کو چھوڑ چکاہوں“ کہنے کے بعد واقعۃً سائلہ کے سسرکے سامنے بطورِخبر کے دوبارہ یہی الفاظ دہرائے ہوں، اور اس سے قبل کوئی طلاق نہ دی ہو تو ایسی صورت میں سائلہ پر ایک طلاق رجعی واقع ہوچکی تھی، جس کے بعد شوہر کو دورانِ عدت رجوع کا اختیار تھا، لیکن اس کے بعد شوہر کا مذکور الفاظ ”آج سے تم میری بہن ہو، بہن ہو، بہن ہو“ استعمال کرنا اگر ان کے عرف و عادت اور علاقائی محاورات میں لوگ بیوی کو بہن بول کر طلاق مراد لیتے ہوں، اور وہاں یہ لفظ طلاق کے مترادف ہی سمجھا جاتا ہو، اور شوہر نے مذکور الفاظ طلاق کی نیت سےہی کہے ہوں تو مجموعی طور پر سائلہ پر دو طلاق بائن واقع ہوچکی ہیں، جس کی وجہ سے دونوں کا نکاح ختم ہو چکا ہے، اور عورت عدت گزار کر دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے، البتہ اگر میاں بیوی آپس کی رضا مندی سے دوبارہ ایک ساتھ رہنا چاہتے ہوں تو ان کیلئے شرعی گواہان کی موجود گی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ باقاعدہ ایجاب و قبول کرکے تجدیدِ نکاح لازم ہوگا۔ تا ہم آئندہ کیلئے شوہر کو فقط ایک طلاق کا اختیار ہوگا، اس لئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط لازم ہے۔
کما فی العرف الشذی علی ھامش الترمذی: قال العلماء: لا بد في الظهار من التشبيه وإذا قال: أنت أمي لا يكون ظهاراً بل لغواً، أقول: لا بد من أن يكون طلاقاً بائناً عند النية وقد روي عن أبي يوسف كما في العمدة الخ(کتاب الطلاق واللعان، باب ماجاء فی کفارۃ الظہار، ج2،ص429،ط:دار التراث العربی)۔
وفی الشامیۃ: فإن سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح، فإذا قال: " رهاكردم " أي سرحتك، يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضاً، وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق، وقد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت (إلی قولہ) والحاصل أن المتأخرین خالفوا المتقدمین فی وقوع البائن بالحرام بلا نیۃ حتی لا یصدق إذا قال لم أنو لأجل العرف الحادث فی زمان المتأخرین فیتوقف الآن وقوع البائن بہ علی وجود العرف کما فی زمانھم الخ(کتاب الطلاق، باب الکنایات، ج 3، ص 299، ط: سعید)۔
وفیہ أیضاً: (الصریح یلحق الصریح و) یلحق (البائن) بشرط العدۃ (والبائن یلحق الصریح) الصریح ما لا یحتاج إلی نیۃ بائنا کان الواقع بہ أو رجعیا فتح(إلی قولہ) (لا) یلحق البائن (البائن) إذا أمکن جعلہ إخبارا عن الأول الخ(کتاب الطلاق، باب الکنایات، ج 3، ص 306،308، ط: سعید)۔
وفی الھندیۃ: ولو قال لإمرأتہ أنت طالق فقال لہ رجل ما قلت فقال طلقتھا أو قال قلت ھی طالق فھی واحدۃ فی القضاء کذا فی البدائع الخ(کتاب الطلاق، الباب الثانی فی ایقاع الطلاق الخ، الفصل الاول، ج 1، ص 354، ط: ماجدیۃ)۔
وفیھا أیضاً: وإذا کان الطلاق بائنا دون الثلاث فلہ أن یتزوجھا فی العدۃ وبعد انقضائھا الخ(فصل فیما تحل بہ المطلقۃ وما یتصل بہ، ج 1، ص 472، ط: ماجدیۃ)۔