سوال میری دوست کا ہے کہ ایک شوہر نے اپنی بیوی سے کہا اگر تمہارے گھر والے میرے گھر آئنگے تو تمہیں طلاق ہوجائیگی سوال یہ ہے کہ کیا طلاق واقع ہوجائیگی حالانکہ شوہر کے ساتھ نفسیاتی مسائل ہے دماغ کی ایم۔آر۔آئی ۔بھی کرائی ہے اور کافی سالوں سے عاملوں سے علاج بھی چل رہا ہے ۔
واضح ہو کہ طلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کے بعد جب وہ شرط پائی جائےتو طلاق واقع ہوجاتی ہے لہذا صو رت مسؤلہ میں سائلہ کی سہیلی کے شوہر نے اگر اپنے ہوش و حواس میں اپنی بیوی سے یہ کہا ہو کہ " اگر آپ کے گھر والے ہمارے گھر آئے تو تمہیں طلاق" تویہ طلاق معلق ہوچکی ہے،چنانچہ اب جب بیوی کے گھر والےشوہر کے گھر آئنگے تو بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہوجائےگی اور طلاق رجعی واقع ہونے کی صورت میں عدت کے اندر شوہر کو رجوع کرنے کا اختیارحاصل ہوتا ہے اگر شوہر نےعدت میں رجوع کرلیا تو دونوں میاں بیوی کا نکاح حسب سابق برقرار ہوگا لیکن اگر شوہر نے عدت کے دوران رجوع نہیں کیا تو عدت کےگزرنے کے بعد دونوں میاں بیوی کا نکاح بالکلیہ ختم ہو جائےگا جس کے بعد اگر میاں بیوی دو بارہ ساتھ رہنا چاہیں تو اس کے لئے باہمی رضامندی سے باقاعدہ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ نکااح کر نا لازم ہوگا ،تاہم اس رجوع یا نکاح کے بعد آئندہ کے لئے شوہر کو فقط دو طلاقوں کا اختیار حاصل ہوگا اس لئے اسے آئندہ کے لئے طلاق کے معاملے میں احتیاط سے کام لینا چاہئے۔
كما في الدرالمختار:فِي أَيْمَانِ الْفَتْحِ مَا لَفْظُهُ، وَقَدْ عُرِفَ فِي الطَّلَاقِ أَنَّهُ لَوْ قَالَ: إنْ دَخَلْت الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ، إنْ دَخَلْت الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ، إنْ دَخَلْت الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ وَقَعَ الثَّلَاثُ.(ج:٣،ص:٣٧٦ )
وفيه أيضا:كُلِّهَا (تَنْحَلُّ) أَيْ تَبْطُلُ (الْيَمِينُ) بِبُطْلَانِ التَّعْلِيقِ (إذَا وُجِدَ الشَّرْطُ مَرَّةً إلَّا فِي كُلَّمَا فَإِنَّهُ يَنْحَلُّ بَعْدَ الثَّلَاثِ) لِاقْتِضَائِهَا عُمُومَ الْأَفْعَالِ( ج:٣،ص:٣٥٢)
وفي التاتار خانيه:إذا قال لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق ،فدخلت إمرأته وقع الطلاق لوجود الشرط.(ج:٣،ص:٥٠٣)
وفي الهداية:وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض.(ج:٢،ص:٢٥٤)