بخدمت جناب مفتی صاحب دامت برکاتہم، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاته! میرا نام۔۔۔۔۔ ہے، میری عمر 40 سال ہے، دراصل مسئلہ یہ ہے کہ میری بیوی کے ساتھ کافی عرصے سے جھگڑا چل رہا تھا، اسی دوران میں نے اسے طلاق دے دی،میں نے الفاظ یوں ادا کیے، ”میں نے طلاق دی، میں نے طلاق دی، میں نے طلاق دی،“اس واقعے کو تقریباً تین سے چار مہینے گزر چکے ہیں، میرے چھ بچے ہیں، جن کی عمریں 8 سے 11 سال کے درمیان ہیں،اب میں قرآن و سنت کی روشنی میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ اگر میں دوبارہ نکاح کرنا چاہوں تو کیا شرعی طور پر کوئی راستہ موجود ہے؟ کیا رجوع یا نکاحِ ثانی ممکن ہے؟آپ سے گزارش ہے کہ اس مسئلے میں میری شرعی رہنمائی فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً۔
سائل نے جب اپنی بیوی کو مذکور الفاظ ” میں نے طلاق دی، میں نے طلاق دی، میں نے طلاق دی “کہے، تو اس سے سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، اب رجوع نہیں ہوسکتا، اور نہ ہی حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح ہوسکتا ہے، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں، اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گنہگار ہوں گے، جبکہ عورت ایامِ عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔
اور حلالۂ شرعیہ یہ ہے کہ عورت اپنے شوہر سے علیحدگی اور عدتِ طلاق گزارنے کے بعد ،بغیر کسی شرط کے کسی دوسرے مسلمان شخص سے نکاح کرے اور حقوقِ زوجیت ادا کرے ، چنانچہ اگر وہ دوسرا شخص بھی اس سے ایک مرتبہ ہمبستری (جو کہ حلالۂ شرعیہ کے تحقق کیلئے ضروری ہے) کے فوراً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصے بعد طلاق دیدے یا بیوی سے پہلے شوہر کا انتقال ہو جائے، بہر صورت اس کی عدت گزارنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے نکاح میں آنا چاہے اور پہلا شوہر بھی اس کو رکھنے پر رضامند ہو تو نئے مہر کے تقرر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقدِ نکاح کر کے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتے ہیں، تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوجِ ثانی نکاح کے بعد طلاق دے، تاکہ زوجِ اول کے لئے عورت دوبارہ حلال ہو جائے ، مکروہ ہے اور احادیثِ مبارکہ میں ایسے عمل کرنے والوں کو ملعون قرار دیا گیا ہے ،البتہ بغیر شرط کے بلاشبہ جائز اور درست ہے۔
کما فی الفتاوى الهندية: و إن كان الطلاق ثلاثا فی الحرة و ثنتين فی الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا و يدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا فی الهداية ولا فرق فی ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا فی فتح القدير و يشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل و هو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز. أما الإنزال فليس بشرط للإحلال(1/ 473)۔
و فی الھندیۃ: وإذا قال لامرأته أنت طالق وطالق وطالق ولم يعلقه بالشرط إن كانت مدخولة طلقت ثلاثا وإن كانت غير مدخولة طلقت واحدة وكذا إذا قال أنت طالق فطالق فطالق أو ثم طالق ثم طالق أو طالق طالق كذا في السراج الوهاج اھ(الفصل الاول فی الطلاق الصریح ج1 ص355 ط:ماجدیہ)۔