کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرج ذیل مسئلہ میں کہ میں مسماۃ ۔۔۔ بنت ۔۔۔ کا نکاح مسمی ۔۔۔ ولد ۔۔۔۔ کیساتھ تقریباً ڈیڑھ سال قبل ہو گیا تھا، گھریلو جھگڑے کے دوران طلاق کے الفاظ بولے گئےہیں جس میں اختلاف ہے۔
بیوی مسماۃ ۔۔۔ کا حلفیہ بیان: میں ۔۔۔۔ ،اللہ کو حاضر ناظر جان کر یہ حلفیہ بیان دے رہی ہوں کہ میں جو کچھ کہونگی سچ کہونگی اگر اس بیان میں جھوٹ اوردروغ گوئی سے کام لیا تو اس کا عذاب اور وبال مجھ پر ہوگا، ہمارے دونوں کے لڑائی کے دوران میرے جیٹھ نے مداخلت کی بات نہیں کرنے دے رہے تھے، اور میرے شوہر کو کہتے رہے کہ چھوڑ دو اس کو تو میرے شوہر نے چار مرتبہ یہ الفاظ کہے، ”تجھے طلاق چاہیئے لے طلاق تجھے طلاق چاہیئے لے طلاق تجھے طلاق چاہیئے لے طلاق تجھے طلاق چاہیئے لے طلاق“
شوہر کا حلفیہ بیان: میں مسمی ۔۔۔۔اللہ کو حاضر ناظر جان یہ حلفیہ بیان دے رہا ہوں کہ میں جو کچھ کہوں گا سچ کہونگا اگر میں نے اپنے بیان میں جھوٹ اور دروغ گوئی سے کام لیا تو اس کا عذاب اور وبال مجھ پر ہوگا، میں نے اپنی بیوی کو یہ الفاظ بولے، کہ تمہیں طلاق چاہیئے”طلاق دوں“ یہ جملہ میں نے چار مرتبہ دہرایا تھا۔
موقع پر موجود ۔۔۔ کے بھائی ۔۔۔ کا حلفیہ بیان بھی یہی ہے کہ ۔۔۔نے طلاق دوں کے الفاظ بولے تھے۔
۔۔۔ کے دوسرے بھائی ۔۔۔۔ کا حلفیہ بیان یہ ہے کہ میں نے دو مرتبہ یہ الفاظ سنے ” طلاق دوں آچل تجھے دیتا ہوں طلاق “ یہ جملہ میں نے صرف دو مرتبہ سنا تھا۔
موقع پر موجود جیھٹانی۔۔۔کا بھی یہی بیان ہے کہ دو مرتبہ یہ جملہ بولا تھا ”آچل تجھے طلاق دیتا ہوں“ دو مرتبہ بولا تھا، اب یہ معلوم کرنا ہے کہ اس صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوئی اور اب ہمارے لیے کیا حکم ہے۔
مفتی غیب نہیں جانتا وہ سوال کے مطابق جواب دینے کا پاپند ہوتا ہے ، سوال کے سچ یا جھوٹ پر مبنی ہونے کی ذمہ داری سوال کرنے والےپر عائد ہوتی ہے ، اس تمہید کے بعد واضح ہو کہ صورتِ مسئولہ میں سائلہ مسماۃ۔۔۔ اپنے خاوند مسمیٰ ۔۔۔ پر اسے تین طلاقیں دینے کا دعوی کر رہی ہے ، البتہ اسکے پاس اپنے موقف پرموقع کا کوئی گواہ موجودنہیں ، البتہ وہ اپنے کانوں سے تین بار طلاق کا لفظ سننا بیان کرتی ہے ، اور اس بیان پر حلف بھی اٹھا رہی ہے ، جبکہ اس کاشوہر اس کو طلاق دینے سے انکار کر رہا ہے ، اور وہ بھی اپنی بات کی سچائی پر قسم اٹھا رہا ہے، ایسی صورتِ حال میں جب بیوی طلاقِ ثلاثہ اپنے کانوں سے سننا بیان کر رہی ہے اور اسے بخوبی یاد بھی ہے ، تو ” المرأۃ کالقاضی “کے اصول کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے اسے چاہیئے کہ وہ اپنے آپ کو مطلقہ ثلاثہ سمجھے اور شوہر کو ہرگز اپنے اوپر قدرت نہ دے ، البتہ اگر یہ معاملہ قاضی ( جج) کی عدالت میں چلا جائے اور بیوی اپنے دعوی پر گواہ نہ پیش کر سکے اور قاضی مدعی علیہ ( یعنی خاوند) کی قسم پر بیوی کے خلاف اور شوہر کے حق میں عدمِ طلاق کا فیصلہ دے کر اسے خاوند کے ساتھ بھیج دے تو اس صورت میں وہ اس شوہر کے ساتھ جانے سے اگر چہ گنہگار نہ ہو گی لیکن جب اسے تین طلاقیں اپنے کانوں سے سننا واقعۃً یاد ہوں تو اسے چاہیئےکہ حتی الامکان شوہر کو اپنےاوپر قدرت نہ دے بلکہ اس سے طلاق بالمال یا خلع کے ذریعے علیحدگی حاصل کرلے ۔
کما فی الدر المختار: (و یقع بھا) ای بھذہ لألفاظ وما بمعناھا من الصریح الخ
وفی الشامیۃ تحت: (قولہ وما بمعناھا من الصریح) أی مثل ما سیذکرہ من نحو: کونی طالقاً (إلی قولہ) قلت: ومنہ فی عرف زماننا تکونی طالقاً، ومنہ: خذی طلاقك فقالت أخذت فقد صحح الوقوع بہ بلا إشتراط النیۃ کما فی الفتح وکذا لا یشترط قولھا أخذت الخ۔(کتاب الطلاق، ج3، ص248، ط: سعید)،۔
وفی الھندیۃ: رجل قال لإمرأتہ خذی طلاقك فقالت أخذت یقع الطلاق وفی العیون شرط النیۃ والاصح أنھا لیست بشرط الخ۔(الفصل الاول فی الطلاق الصریح،ج1، ص359، ط: ماجدیۃ)۔
وفیھا ایضاً: والمرأة كالقاضي لا يحل لها أن تمكنه إذا سمعت منه ذلك أو شهد به شاهد عدل عندها الخ (الباب الثانی فی ایقاع الطلاق ج1 ص 354 ط: ماجدیۃ)۔
کما فی البحر الرائق: والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل لها تمكينه هكذا اقتصر الشارحون وذكر في البزازية وذكر الأوزجندي أنها ترفع الأمر إلى القاضي فإن لم يكن لها بينة يحلفه فإن حلف فالإثم عليه الخ (باب الطلاق الصریح، ج 3 ص 257 ط: ماجدیۃ)۔
وفی رد المحتار تحت: (قوله: كالقضاء باليمين الكاذبة) محترز قول المتن بشهادة قالوا لو ادعت أن زوجها أبانها بثلاث فأنكر فحلفه القاضي فحلف، والمرأة تعلم أن الأمر كما قالت لا يسعها المقام معه، ولا أن تأخذ من ميراثه شيئا وهذا لا يشكل إذا كان ثلاثا لبطلان المحلیۃ للإنشاء قبل زوج آخر وفيما دون الثلاث مشكل؛ لأنه يقبل الإنشاء وأجيب بأنه إنما يثبت إذ قضى القاضي بالنكاح وهنا لم يقض به لاعترافهما به، وإنما ادعت الفرقة زيلعي، وفي الخلاصة ولا يحل وطؤها إجماعا بحر الخ (کتاب القضاء ج 5 ص 407 ط: سعید)۔