میری شادی ایک ایسی لڑکی سے ہوئی تھی جس کا کسی اور کے ساتھ میاں بیوی والا تعلق تھا اور اس لڑکی نے مجھ سے معافی مانگ کر مجھے نکاح پر آمادہ کیا، مگر مجھے ہر وقت اس کے لیے طلاق کے الفاظ دل میں آتے رہتے تھے ،ایک بار میں نے اس کو ایک بیٹھک میں تین بار طلاق دے دی ،پھر ایک مفتی سےفتوی لیا بڑوں نے۔ اور بولا کہ ابھی ایک ہی ہوئی ہیں اب میں نے اس کو وائس پر لکھ کے دو الگ الگ میسج کیے ہیں طلاق کے، کیا طلاق ہو گئی؟ ہماری تین بیٹیاں ہیں
واضح ہو کہ تین طلاقیں خواہ ایک مجلس میں دی جائیں یا الگ الگ مجالس میں، اس سے بہر صورت تین طلاقیں ہی واقع ہوتی ہے،لہذ ا صورتِ مسئولہ میں سائل نے جب پہلی مرتبہ ایک بیٹھک میں تین طلاقیں دےدی تو اس سے باتفاقِ صحابہ و ائمہ مجتہدین سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے،اب رجوع نہیں ہوسکتا ،اور حلالہ شرعیہ کے بغیر باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا،لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً علیحدگی اختیار کریں ،ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہونگے،جبکہ عورت ایام عدت گزرنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔
کما فی الجامع لاحکام القرآن تحت قولہ تعالیٰ:وَاتَّفَقَ أَئِمَّةُ الْفَتْوَى عَلَى لُزُومِ إِيقَاعِ الطَّلَاقِ الثَّلَاثِ فِي كَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ، وَهُوَ قَوْلُ جُمْهُورِ السَّلَفِ،(ج:2،ص:9،)
وفی سنن ابن ماجہ: عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: قُلْتُ لِفَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ: حَدِّثِينِي عَنْ طَلَاقِكِ، قَالَتْ: «طَلَّقَنِي زَوْجِي ثَلَاثًا، وَهُوَ خَارِجٌ إِلَى الْيَمَنِ، فَأَجَازَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم(ج:1 ،ص:415 مط:مکتبۃ البشری)
وفی الدر المختار تحت قولہ والبدعی: (قوله والبدعي) منسوب إلى البدعة والمراد بها هنا المحرمة لتصريحهم بعصيانه بحر (قوله ثلاثة متفرقة) وكذا بكلمة واحدة بالأولى،ا(لی قولہ) وذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاث.(ج:3،ص:223:،مط: ایچ ایم سعید)