طلاق

بیوی کے تین طلاق کے دعوے متعلق حکم

فتوی نمبر :
90088
| تاریخ :
2025-12-16
معاملات / احکام طلاق / طلاق

بیوی کے تین طلاق کے دعوے متعلق حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارےمیں کہ ہم میاں بیوی کی شادی کو تقریباً ایک سال ہو چکا ہے، اس دوران متعدد بار طلاق کے واقعات ہوئے، جس میں ہم میاں بیوی کا اختلاف ہے ۔
بیوی مسماۃ مینہ اللہ کو حاضر ناظر جان کر حلفیہ بیان دیتی ہوں کہ جو کچھ کہوں گی، سچ کہوں گی، اگر اس میں در وغ گوئی سے کام لوں تو اللہ کا عذاب نازل ہو مجھ پر، کہ شادی کے دوسرے دن میرے شوہر نے مجھے ناشتہ کے لئے اٹھانے پر تین بار طلاق کے یہ الفاظ ”طلاق دے دیا “ بولے ،میں نے اپنی ساس کو بتایا ،انہوں نے کہا کہ چپ رہو ،کسی کو کچھ مت بتانا، اور اس واقعہ کی خبر میں نے اپنی والدہ کو بھی دی تھی ۔
پھر آٹھ رمضان کو راشن سے متعلق لڑائی جھگڑے میں شوہر نے دوبارہ تین بار طلاق کے یہ الفاظ ”طلاق ہو گئی “بولے، پھر دوبارہ میں نے اپنی ساس کو بتایا ،تو انہوں نے کسی کو بتانے سے منع کر دیا ۔
اب پھر دسمبر کو لڑائی ہوئی اور شوہر نے کہا کہ ”میں نے چھوڑ دیا ہے، میری طرف سے فارغ ہے، سامان پیک کرو اور جاؤ “ اس کے بعد سے میں اپنے والدین کے گھر میں ہوں، اس موقع پر لڑکی کا والد اور والدہ موجود تھے، وہ الفاظ طلاق سننے کا دعوی کرتے ہیں۔
جبکہ شوہر بھی حلفیہ بیان دیتا ہے کہ میں اللہ کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں، اگر اس بیان میں جھوٹ بولو ں تو مجھ پر اللہ تعالی کا عذاب نازل ہو، شادی کے دوسرے دن طلاق کی کوئی بات نہیں ہوئی، جبکہ آٹھ رمضان اور ابھی کے طلاق کے واقعہ میں میں نے صرف یہ جملہ ”چھوڑ دوں گا اور فارغ کر دوں گا“ استعمال کیا تھا اس کے علاوہ کچھ نہیں کہا۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مفتی غیب نہیں جانتا، وہ سوال کے مطابق اصولی جواب دینے کا پابند ہوتا ہے، اس لئے سوال کے سچ یا جھوٹ پر مبنی ہونے کی اصل ذمہ داری سوال کرنے والے پر عائد ہوتی ہے، اس مختصر تمہید کے بعد واضح ہو کہ مذکورہ بالا بیان میں سائلہ شادی کےبعدتین مختلف مواقع پراپنے خاوند پراُسے تین طلاق دینے کا دعوی کرتی ہے ، اور اس کے پاس پہلے دومواقع کا کوئی گواہ نہیں ہے،البتہ وہ بذاتِ خود اپنے کانوں سے تین طلاق کے الفاظ کی سماعت کاحلفیہ بیان دےرہی ہے،جبکہ تیسرے موقع پراس کی والدہ اوروالداس کے بیان کی تصدیق کرتے ہوئے اس پربطورگواہ پیش ہوئے ہیں، تاہم چونکہ شرعی اصول کے مطابق مدعی اپنے دعویٰ کے اثبات کے لئے خود کو یااپنے اصول (باپ،دادا وغیرہ)وفروع(بیٹا،پوتا وغیرہ)گواہ نہیں بنا سکتا ، لہذاسائلہ کے والدین کی اس کے حق میں دی گئی گواہی شرعاًمعتبرنہیں ،لیکن ایسی صورتحال میں جب عورت اپنے دعوی طلاق پر حلف اُٹھارہی ہواورطلاقِ ثلاثہ کے الفاظ اپنے کانوں سے سننا اُسے بخوبی یاد بھی ہو، اوروہ آخرت کی جواب دہی کے لئے بھی تیار ہو تو ’’المرأة کا لقاضی‘‘ کے اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے اُسے چاہیئے کہ وہ اپنے آپ کو مطلّقہ ثلاثہ سمجھے اور شوہر کو ہر گز اپنے اوپر قدرت نہ دے ۔
تاہم یہ معاملہ اگر قاضی ( جج ) کی عدالت میں چلا جائے اور قاضی تین طلاقوں پر شرعی گواہ نہ ہونے کی وجہ سے شوہر کی قسم پر اس کے حق میں فیصلہ دے کر بیوی کو اس کے ساتھ روانہ کردے ، تو ایسی صورت میں بیوی اگرچہ گناہ گار نہ ہوگی، مگر پھر بھی اُسے چاہیئے کہ حتی الامکان شوہر سے طلاق بالمال یا خلع کے ذریعہ خلاصی حاصل کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی الدر المختار: وكذا لو نوى طلاقها من زوجها الأول على الصحيح خانية، ولو نوى عن العمل لم يصدق أصلا، ولو صرح به دين فقط، الخ
وفی الرد: تحت (قوله: دين فقط) أی ولا يصدق قضاء لأنه يظن أنه طلق ثم وصل لفظ العمل استدراكا، (إلی قولہ ) والمرأة كالقاضی إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل له تمكينه، والفتوى على أنه ليس لها قتله، ولا تقتل نفسها بل تفدی نفسها بمال أو تهرب، كما أنه ليس له قتلها إذا حرمت عليه وكلما هرب ردته بالسحر، وفی البزازية عن الأوزجندی أنها ترفع الأمر للقاضی، فإنه حلف ولا بينة لها فالإثم عليه، الخ (کتاب الطلاق، باب صریح الطلاق، ج 3، ص 251، ط: ایچ ایم سعید)-
وفی البحرالرائق: والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل لها تمكينه هكذا اقتصر الشارحون وذكر في البزازية وذكر الأوزجندي أنها ترفع الأمر إلى القاضي فإن لم يكن لها بينة يحلفه فإن حلف فالإثم عليه اهـ. ولا فرق في البائن بين الواحدة، والثلاث اهـ. وهل لها أن تقتله إذا أراد جماعها بعد علمها بالبينونة فيه قولان، والفتوى أنه ليس لها أن تقتله وعلى القول بقتله تقتله بالدواء فإن قتلته بالسلاح وجب القصاص عليها وليس لها أن تقتل نفسها وعليها أن تفدي نفسها بمال أو تهرب وليس له أن يقتلها إذا حرمت عليه ولا يقدر أن يتخلص منها بسبب أنه كلما هرب ردته بالسحر،الخ (کتاب الطلاق،باب الفاظ الطلاق،ج3،ص277،ط:دار الکتاب الإسلامی)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبداللہ اسد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 90088کی تصدیق کریں
0     6
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • تحریر کردہ طلاق نامہ کے ذریعہ طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 6
  • مذاق میں بیوی کو طلاق کاغذ پر لکھ کر دیدی

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • بیوی کو حرام زادی کہنے سے نکاح متاثرہوگا؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   طلاق 2
  • دل دل میں طلاق دینا

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • ایک کاغذپر تین طلاق لکھ کر دینے سے کتنی طلاقیں واقع ہوں گی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • تم میری بہن کی طرح ہو کہنے سے بیوی پر طلاق واقع ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • بیرون ملک شادی کے لئے پہلی بیوی کے نام عارضی طلاق نام بنوانا

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 2
  • پچپن میں نکاح کے بعد بالغ ہونے پر لڑکا پاگل ہوگیا طلاق کیسے ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • اسلام قبول کرنے کے بعد عیسائی شوہرسے نکاح خودبخودختم ہوجاتاہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   طلاق 0
  • طلاق نامہ پر دستخط کرنے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • حمل کی حالت میں طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • طلاق کا واقعہ سنانے سے مزید طلاق واقع ہونے سے متعلق سوال

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • "میں تم کو طلاق دیتا ہوں "بیوی کو غصہ میں تین دفعہ بول دینا

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • بیوی کی غیر موجودگی میں, سسر کو تین بار کہہ دینا کہ" میں نے تیری بیٹی کو طلاق دیدی "

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • بیوی کو ڈرانے کے لیے الفاظ طلاق بولنا

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • واٹس اپ کی ریکارڈنگ کے ذریعے طلاق

    یونیکوڈ   انگلش   طلاق 2
  • بیوی کی غیر موجودگی میں اس کی طرف نسبت کئے بغیر طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • وقوع طلاق کے لیے گواہ شرط ہے؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • یونین کونسل کی جانب سے پہلی طلاق کا نوٹس بھیجے جانے سے مزید وقوعِ طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • بیوی کو طلاق کا مسئلہ سمجھاتے ہوئے الفاظ طلاق کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • موبائل پر طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • لفظِ " فارغ "سے طلاق واقع ہونے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 4
  • بیوی نے کہا کہ "مہر دو اور جانے دو" جواب میں شوہر کا "ٹھیک ہے " کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • "طلاق لو اور جاؤ" کہنے سے طلاق ہوگی یا نہیں؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • گھر والوں کی دباؤ میں آکر طلاق نامہ پر دستخط کرنے سے طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
Related Topics متعلقه موضوعات