السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ، جنابِ عالی! بعد از سلام عرض یہ ہے کہ میرا بیٹا ۔۔۔۔ مؤرخہ 14 ستمبر 2025 کو اپنی اہلیہ کو ایک ہی مجلس میں تحریری صورت میں تین طلاقیں دے چکا ہے، جس کی وجہ یہ بنی کہ اہلیہ کا تعلق کسی اور سے چل رہا تھا، باقاعدہ ثبوت بذریعہ موبائل موجود ہے، طلاق دینے کے 15 دن بعد معلوم ہوا کہ اہلیہ حاملہ ہے، اب یہ خبر سننے کے بعد میرا بیٹا۔۔۔ رجوع کی طرف جانا چاہتا ہے، تو ایسی صورت میں شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں ہماری مکمل رہنمائی فرمائیں۔ جزاک اللہ خیراً!
واضح ہوکہ حالتِ حمل میں بھی طلاق دینے سے شرعاً طلاق واقع ہوجاتی ہے، لہذاصورت مسئولہ میں سائل کابیٹا جب اپنی اہلیہ کو ایک ہی مجلس میں تحریری صورت میں تین طلاقیں دے چکاہےتو اس سے اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلّظہ ثابت ہو چکی ہے، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا، لہٰذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے، جبکہ سائل کی مذکورہ بہو عدت مکمل کرنے کے بعد(جوکہ مذکورہ صورت میں وضع حمل ہے،یعنی بچے کی پیدائش تک ہے) کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
اور حلالۂ شرعیہ یہ ہے کہ عورت اپنے شوہر سے علیحدگی اور عدتِ طلاق گزارنے کے بعد ،بغیر کسی شرط کے کسی دوسرے مسلمان شخص سے نکاح کرے اور حقوقِ زوجیت ادا کرے ، چنانچہ اگر وہ دوسرا شخص بھی اس سے ایک مرتبہ ہمبستری (جو کہ حلالۂ شرعیہ کے تحقق کیلئے ضروری ہے) کے فوراً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصے بعد طلاق دیدے یا بیوی سے پہلے شوہر کا انتقال ہو جائے، بہر صورت اس کی عدت گزارنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے نکاح میں آنا چاہے اور پہلا شوہر بھی اس کو رکھنے پر رضامند ہو تو نئے مہر کے تقرر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقدِ نکاح کر کے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتے ہیں، تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوجِ ثانی نکاح کے بعد طلاق دے، تاکہ زوجِ اول کے لئے عورت دوبارہ حلال ہو جائے ، مکروہ ہے اور احادیثِ مبارکہ میں ایسے عمل کرنے والوں کو ملعون قرار دیا گیا ہے ،البتہ بغیر شرط کے بلاشبہ جائز اور درست ہے۔
کما فی الفتاوى الهندية: و إن كان الطلاق ثلاثا فی الحرة و ثنتين فی الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا و يدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا فی الهداية ولا فرق فی ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا فی فتح القدير و يشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل و هو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز. أما الإنزال فليس بشرط للإحلال(1/ 473)۔
و فی فتاوی الھندیۃ: وعدة الحامل أن تضع حملها كذا في الكافي. سواء كانت حاملا وقت وجوب العدة أو حبلت بعد الوجوب كذا في فتاوى قاضي خان،(كتاب الطلاق ، الباب الثالث عشر في العدة ، ج:1 ، ص:528 ، ط:دارالفكر)-
وفی بدائع الصنائع: وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله - عز وجل - {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة؛الخ ( ج3ص 187 فصل وأما حکم البائن ط سعید)۔