السلام علیکم ، میں عائشہ ناز اپنے شوہر شہزایب خان سے متعلق جاننا چاہتی ہوں۔ میرے شوہر نے مجھے اگست 2025 میں کہا تھا کہ "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں"۔ پھر اس کے بعد دو مہینے گزر گئے۔ میرے گھر والے ان کے گھر گئے تھے، تو جب انہوں نے کہا کہ "میں اللہ کو حاضر ناظر جان کر ایک طلاق دے چکا ہوں، دوسری کا ذکر کرتا ہوں"، پھر اس کے بعد میرے بھائی اور ان کی کافی بات ہوئی، جس کے بعد انہوں نے کہا کہ "نہیں دے رہا میں، کورٹ سے لے لو، اور تیسری طلاق کا حق میں اپنے پاس رکھتا ہوں"۔ اس کے بعد سے میں اپنے گھر امی کے پاس واپس آ گئی ہوں۔ تو مجھے معلوم کرنا تھا کہ میری کتنی طلاقیں ہو چکی ہیں؟ پہلی طلاق کے بعد ساتھ تھے، لیکن دوسری بار جب کہا تو میں گھر آ گئی تھی، لیکن دوسری بار انہوں نے کہا تھا "دوسری کا ذکر کرتا ہوں" طلاق کا لفظ نہیں بولا۔ پھر کہا کہ " تیسری کا حق اپنے پاس رکھتا ہوں"۔
صورت مسؤلہ ميں شوہر کے اگست 2025ء میں صریح الفاظ "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" کہہ دینےسےسائلہ پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہوگئی تھی ،اس کے بعدسائلہ کے شوہرکااس کے گھروالوں کویہ کہناکہ "میں اللہ کوحاضرناظرجان کرایک طلاق دے چکاہوں "یہ پہلی طلاق ہی کا اقرار اور اس کی خبر ہے، اس سے نئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔اس طلاق کے بعدسائلہ کے شوہرکودوران عدت رجوع کاحق حاصل تھا،چنانچہ اگر شوہر نے دوران عدت (تىن ماہواريوں کے دوران) قولاً يا فعلاً رجوع نہ كيا ہو، تواس صورت میں مذکورطلاق رجعی ، طلاق بائن میں تبدیل ہوکران دونوں کانكاح ختم ہوچكاہے،لیکن اگر سائلہ اوراس کاشوہردوبارہ ساتھ رہنے پرآمادہ ہوں توباہمی رضامندی سے شرعی گواہوں کی موجودگی میں نئے حق مہرکے تقررکے ساتھ ازسرنوعقد نکاح کی گنجائش ہے،تاہم سائلہ کے شوہرکے پاس آئندہ کے لیے فقط دوطلاقوں کااختیارہوگا،اس لیےطلاق کے معاملہ میں احتیاط لازم ہوگی ۔
البتہ اگرسائلہ کے شوہرنے طلاق دینےکےبعدقولاًیافعلاً رجوع كرليا ہوتھا، تواس صورت میں سائلہ اوراس کے شوہرکانکاح بدستوربرقرارہے اوروہ دونوں حسب سابق میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی گزارسکتے ہیں۔
جبکہ سائلہ کے شوہرکے مذکورالفاظ "دوسری کا ذکر کرتا ہوں" یا" تیسری طلاق کا حق اپنے پاس رکھتا ہوں"تو محض ان الفاظ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، لیکن آئندہ طلاق جیسے حساس معاملہ میں اس قسم کے الفاظ دہرانے سےبھی احترازلازم ہے۔
كما في الدر المختار: (صريحه ما لم يستعمل إلا فيه) ولو بالفارسية (كطلقتك وأنت طالق ومطلقة) (ج: 3، ص: 247) (إلى قوله) (ويقع بها) أي بهذه الألفاظ وما بمعناها من الصريح، (3/248) (إلى قوله) (واحدة رجعية، (3/249) (كتاب الطلاق، باب صريح الطلاق، ج: 3، ص: 247-248-249، ط: إيج إيم سعيد)
وفيه أيضا: باب الكنايات (كنايته) عند الفقهاء (ما لم يوضع له) أي الطلاق (واحتمله) وغيره.إلخ
وفي رد المحتار: لأن ما ذكروه في تعريف الكناية ليس على إطلاقه، بل هو مقيد بلفظ يصح خطابها به ويصلح لإنشاء الطلاق الذي أضمره أو للإخبار بأنه أوقعه.إلخ. (كتاب الطلاق، باب الكنايات، ج: 3، ص: 296، ط: إيج إيم سعيد)
وفي الدر المختار أيضا: (هي استدامة الملك القائم) بلا عوض ما دامت (في العدة) أي عدة الدخول حقيقة (إلى قوله) وتصح مع إكراه وهزل ولعب وخطإ (بنحو) متعلق باستدامة (رجعتك) ورددتك ومسكتك بلا نية لأنه صريح (و) بالفعل مع الكراهة.اهـ (باب الرجعة، ج: 3، 397- 398، ط: إيج إيم سعيد)
وفي رد المحتار: والرجعي لا يزيل الملك إلا بعد مضي العدة.اهـ (كتاب الطلاق، باب الرجعة، ج: 3، ص: 400، ط: إيج إيم سعيد)
وفيه أيضا: (قوله أو لم ينو شيئا) لما مر أن الصريح لا يحتاج إلى النية، ولكن لا بد في وقوعه قضاء وديانة من قصد إضافة لفظ الطلاق إليها عالما بمعناه ولم يصرفه إلى ما يحتمله كما أفاده في الفتح، وحققه في النهر.إلخ (ج: 3، ص: 250، ط: إيج إيم سعيد)