کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تحریری میسج بذریعہ واٹس ایپ بھیجا”کہ تو مجھ پر طلاق ہے“بیوی نے میسج کے جواب میں میسج بھیجاکہ دو باقی ہیں شوہر نے میسج بھیجاکہ ”تو طلاق ہے طلاق ہے طلاق ہے“۔
سوال یہ ہے کہ طلاق واقع ہوگئی یا نہیں؟اگر واقع ہوگئی تو کتنی طلاقیں واقع ہونگی؟شوہر اپنے والدین کے گھر میں ہے اور وہ اس کی کوئی وضاحت نہیں کررہا۔
صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کا بیان واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو، اس میں کسی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو اس طور پر کہ مذکور شخص نے جب اپنی بیوی کو واٹس ایپ کے ذریعے یہ الفاظ بھیجے”تو مجھ پر طلاق ہے“، اور بیوی نے جواب میں کہا ”کہ دو باقی ہیں“ اوراس کے بعد شوہر نے دوبارہ یہ الفاظ تین مرتبہ بھیجے ”تو طلاق ہے، طلاق ہے، طلاق ہے“ تو اس سے مذکور شخص کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، جبکہ باقی ایک طلاق محل نہ رہنے کی وجہ سے لغو شمار ہوگی،لہذا اب رجوع نہیں ہوسکتا،اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِنکاح بھی نہیں ہوسکتا ، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ ایک دوسرے سے علیحدہ رہیں اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے،جبکہ عورت ایام ِعدت گزارنے کےبعددوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔
قال اللہ تعالیٰ: فان طلقھا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ (سورۃ البقرۃ ایت نمبر 230)۔
وفی صحیح مسلم: عن عائشہ رضی اللہ عنھا قالت طلق رجل امراتہ ثلاثا فتزوجھا رجل ثم طلقھا قبل أن یدخل بھا فأراد زوجھا الاول أن یتزوجھا،فسئل رسول اللہ ﷺ عن ذلک فقال لا حتی یذوق الآخر من عسیلتھا ما ذاق الأول الخ (کتاب النکاح، ج: 1، ص: 736، ط: البشریٰ)۔
وفی الدر المختار: كتب الطلاق وإن مستبينا على نحو لوح وقع إن نوى، وقيل مطلقا، ولو على نحو الماء فلا مطلقا. ولو كتب على وجه الرسالة والخطاب، كأن يكتب يا فلانة: إذا أتاك كتابي هذا فأنت طالق طلقت بوصول الكتاب جوهر الخ
وفی رد المحتارتحت: (قولہ کتب الطلاق ) قال فی الھندیۃ: الکتابۃ علی نوعین مرسومۃ وغیر مرسومۃ (إلی قولہ) إن کانت مرسومۃ یقع الطلاق نویٰ أو لم ینو ثم المرسومۃ لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن کتب أما بعد فأنت طالق فکما کتب ھذا یقع الطلاق وتلزمھا العدۃ من وقت الکتابۃ (إلی قولہ) (قولہ طلقت بوصول الكتاب) أي إليھا ولا يحتاج إلى النية في المستبين المرسوم( إلی قولہ) ولو قال للكاتب: اكتب طلاق امرأتي كان إقرارا بالطلاق وإن لم يكتب( إلی قولہ) وكذا كل كتاب لم يكتبه بخطه ولم يمله بنفسه لا يقع الطلاق ما لم يقر أنه كتابه اھ ملخصا الخ (کتاب الطلاق، مطلب فی الطلاق بالکتابۃ،ج3،ص246، ط: ایچ ایم سیعد)۔
وفی الھندیۃ: وإن کان الطلاق ثلاثا فی الحرۃ وثنتین فی الأمۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجاً غیرہ نکاحاً صحییحاً ویدخل بھا ثم یطلقھا أو یموت عنھا الخ (الباب السادس فصل فیما تحل بہ المطلقۃ، ج: 1، ص: 472، ط: ماجدیہ)۔
وفی الھندیۃ: إذا قال لإمرأتہ أنت طالق أنت طالق أنت طالق ولم یعلقہ بالشرط إن کانت مدخولۃ طلقت ثلاثاً الخ (الباب الثانی فی ایقاع الطلاق، ج: 1، ص: 355، ط: ماجدیہ)۔