پہلا سوال: اگر مرد شادی ہونے سے پہلے اپنے گھر والوں کو غصے میں کہہ دے کہ وہ اس لڑکی سے شادی نہیں کرے گا، اور بعد میں جب اس کا اسی لڑکی سے نکاح ہو جائے اور وہ اچھی زندگی گزار رہے ہوں تو کیا اس مرد پر کوئی کفارہ ہو گا اس بات کی وجہ سے؟
دوسرا سوال: اگر کوئی مرد اپنی بیوی کو منہ سے دو بار لفظی طلاق دیدے تو کیا وہ ہو جائے گی؟ میں نے طلاق دے دی، میں نے طلاق دے دی بس دو دفعہ کہہ دے۔
1:واضح ہوکہ کسی مرد کاشادی سے پہلے یہ کہنا کہ میں اس لڑکی سے شادی نہیں کروں گا،اگر محض اپنی ناپسندیدگی کے اظہار کی وجہ سے ہوتو بعدمیں اسی لڑکی سے شادی کرلینے کی وجہ سے اس مرد پر کوئی کفارہ لازم نہ ہوگا ۔
2:جبکہ صرف زبانی طلاق کے الفاظ ادا کر لینے سے بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے،چنانچہ دو مرتبہ الفاظِ طلاق ادا کرنے سےاس کی بیوی پر دو طلاقِ رجعی واقع ہوجائیں گی،جن کا حکم یہ ہے کہ شوہر کو عدّت (یعنی تین ماہواریاں، یاوہ عورتیں جنہیں ماہواری نہ آتی ہو ان سے تین مہینے ) کے اندر اندر رجوع کرنے کا حق حاصل ہے ، رجوع زبانی بھی کیا جا سکتا ہے ، جیسا کہ میں نے تجھ سے رجوع کیا، تم میری بیوی ہو، وغیر ہ ، اور فعل کے ذریعے بھی جیساکہ ہمبستری کرنے سے یا بوس کنار کرنے سے۔ مگر آئندہ شوہر کے پاس فقط ایک طلاق کا اختیار رہے گا، اس لئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں احتیاط سے کام لینا ضروری ہے۔
کمافی الھندیة: (الفصل الأول في الطلاق الصريح) . وهو كأنت طالق ومطلقة وطلقتك وتقع واحدة رجعية وإن نوى الأكثر أو الإبانة أو لم ينو شيئا كذا في الكنز. اھ ( الفصل الاول فی الطلاق الصریح،ج:1،ص:354،م:ماجدیۃ۔)
وفیھاایضاً:الرجعة إبقاء النكاح على ما كان ما دامت في العدة كذا في التبيين وهي على ضربين: سني وبدعي (فالسني) أن يراجعها بالقول ويشهد على رجعتها شاهدين ويعلمها بذلك فإذا راجعها بالقول نحو أن يقول لها: راجعتك أو راجعت امرأتي ولم يشهد على ذلك أو أشهد ولم يعلمها بذلك فهو بدعي مخالف للسنة والرجعة صحيحة وإن راجعها بالفعل مثل أن يطأها أو يقبلها بشهوة أو ينظر إلى فرجها بشهوة فإنه يصير مراجعا عندنا إلا أنه يكره له ذلك ويستحب أن يراجعها بعد ذلك بالإشهاد كذا في الجوهرة النيرة.(. ألفاظ الرجعة صريح وكناية) (فالصريح) : راجعتك في حال خطابها أو راجعت امرأتي حال غيبتها وحضورها أيضا ومن الصريح ارتجعتك ورجعتك ورددتك وأمسكتك ومسكتك بمنزلة أمسكتك فهذه يصير مراجعا بها بلا نية.(والكناية) : أنت عندي كما كنت وأنت امرأتي فلا يصير مراجعا إلا بالنية كذا في فتح القدير۔(الباب السادس فی الرجعۃ، ج : 1 ، ص :466،م:ماجدیۃ۔)