فریق اول۔
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ بہو اور ساس کے درمیان کئی دن سے جھگڑا جاری تھا کہ اس دوران شوہر گھر میں داخل ہوا اور اس نے اپنی بیوی کو چھ (6) دفعہ کہا کہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں اور پھر کہا کہ نکل جا۔ اس کے ساتھ ایک پڑوسی خاتون بھی موجود تھی اور وہ اس بات کی گواہ ہے۔
فریق دوم۔
السلام علیکم : بعد از سلام عرض ممنون ہوں کہ میری بیوی اور میری والدہ کا آپس میں جھگڑا تھا تو والدہ نے مجھے کہا کہ اپنی بیوی کو طلاق دو تو اسی اثناء یعنی مورخہ2025/10/18بوقت صبح 10/9بجے تقریباًمیں نے اپنے بیوی کو ان الفاظ میں کہا ”زا ،تاتہ طلاق در کوم“ (میں تمہیں طلاق دیتا ہوں)یہ الفاظ میں نے تین (3) دفعہ دہرائے ۔ کیا طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیـــں؟
صورتِ مسئولہ میں چونکہ فریقین (میاں بیوی) کا کم از کم تین طلاقوں پر اتفاق ہے اور شوہر بھی اقراری ہے کہ اس نے یوں بولا ”زا تاتہ طلاق در کوم”(میں تمہیں طلاق دیتا ہوں) اور یہ تین مرتبہ بولا ہے، اس لیے صورتِ مسئولہ میں بیوی پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، اب رجوع نہیں ہوسکتا اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا ،لہذا دونوں پر لازم ہے کہ میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہونگے ، جبکہ عورت ایامِ عدت گزارنے کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ۔
قال اللہ تعالیٰ: فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَاتَحِلَّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ (البقرۃ:٢٣٠)
وفي الدرالمختار: (فروع): كرر لفظ الطلاق وقع الكل، وإن نوى التأكيد دين.( باب طلاق غير المدخول بها،ج:٣،ص:٢٩٣،مط:سعيد )
وفي فتح القدير:(قوله وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره إلخ) لا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها لصريح إطلاق النص الخ(فصل فيما تحل به المطلقة،ج:٤،ص٣٠،مط:رشيديه)
و في البحر الرائق:ولو قال للمدخولة أنت طالق أنت طالق أنت طالق إلا واحدة يقع الثلاث، وكذا لو قال أنت طالق واحدة وواحدة وواحدة إلا واحدة لأنه ذكر كلمات متفرقة فيعتبر كل كلام في حق صحة الاستثناء كأنه ليس معه غيره(باب التعليق في الطلاق،ج:٤،ص:٤٢،مط: شيديه)
وفي الهنديه:رجل قال لامرأته أنت طالق أنت طالق أنت طالق فقال عنيت بالأولى الطلاق وبالثانية والثالثة إفهامها صدق ديانة وفي القضاء طلقت ثلاثا كذا في فتاوى قاضي خان(الفصل الأول في الطلاق الصريح،ج:١،ص:٣٥٦،مط:ماجديه)
وفي النتف في الفتاوى للسغدي:واما اللفظ المقرون بالتكرار فهو على اربعة اوجه احدهما ان يقول انت طالق طالق طالق والثاني ان يقول انت طالق وطالق وطالق والثالث ان يقول انت طالق انت طالق انت طالق والرابع ان يقول انت طالق ثم طالق ثم طالق فان كانت المرأة مدخولا بها في هذه الوجوه طلقت ثلاثا الخ(المقرون بالتكرار،ج:١،ص:٣٤٠،مط:مؤسسة الرسالة)
و في الاشباه والنظائر لابن نجيم:فروع:لو كان اسمها طالقا،أو حرة فناداها إن قصد الطلاق، أو العتق وقعا، أو النداء فلا، أو أطلق فالمعتمد عدمه ولو كرر لفظ الطلاق فإن قصد الاستئناف وقع الكل،أو التأكيد فواحدة ديانة، والكل قضاء(تكميل في النيابة في النية،مط:دار الكتب العلميه)