السلام علیکم،مفتی صاحب، میں ایک شرعی مسئلہ کو حل کرنا چاہتا ہوں:"میں شادی شدہ ہوں، اور میری بیوی میں کوئی ذہنی یا جسمانی خرابی نہیں ہے۔ میں نے اس کے ساتھ خوش رہنے اور اپنے تعلقات کو برقرار رکھنے کی پوری کوشش کی ہے، لیکن کافی وقت گزرنے کے باوجود، میں وہ محبت اور سکون پیدا نہیں کر پایا جو میاں بیوی کے درمیان ہونا چاہیے۔مجھے ڈر ہے کہ اگر میں نے اس رشتے کو جاری رکھا تو میں اس کے حقوق ادا نہیں کر سکوں گا۔ اور مجھے ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ میں اسے عزت کے ساتھ اور شرعی قانون کے مطابق بغیر کسی قسم کی توہین یا الزام کے چھوڑ کر دوبارہ شادی کرنا چاہتا ہوں۔تاکہ اسے کہیں اور سکون ملے اور مجھے بھی۔
سوال یہ ہے: 1. اس صورت حال میں کیا؟کیا طلاق دینا گناہ ہے؟
2. کیا کوئی آدمی صرف 'بے وفا' یا 'دلچسپی کی کمی' کی بنیاد پر وقار کے ساتھ الگ ہوسکتا ہے؟
3. کیا ایسی طلاق کو اللہ کی رضا حاصل نہیں ہوگی؟
اس کے ساتھ ایک اور اہم وجہ یہ ہے کہ میں گناہ (زنا) سے بچنا چاہتا ہوں۔ میرے موجودہ تعلقات میں سکون نہ ہونے کی وجہ سے، مجھے ڈر ہے کہ کہیں گم نہ ہو جاؤں، میں شریعت کے مطابق دوبارہ شادی کرنا چاہتا ہوں تاکہ میں اپنی زندگی سکون اور پاکیزگی سے گزار سکوں اور ہر قسم کے حرام کاموں سے بچ سکوں.میں ان کو چھوڑ کر دوسری شادی کرنا چاہتا ہوں تاکہ میں اپنی زندگی سکون سے گزار سکوں.میں ان کو تمام حقوق ادا کر کے رخصت کرنا چاہتا ہوں اور دوسری شادی کر کے اپنی زندگی سکون سے گزارنا چاہتا ہوں کیا اس میں مجھ پر کوئی گناہ ہے.اس معاملے میں میری رہنمائی فرما دیجئے اور مجھے ایک فتوی دے دیجیے۔
سائل نے سوال میں اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ سائل کے لئے یہ رشتہ سکوں واطمینان کا باعث کیوں نہیں ؟ تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا ،تاہم اگر سائل کی بیوی میں کوئی دینی ،اخلاقی اور معاشرتی برائی نہ ہو تو سائل کو چاہئے کہ حتیٰ الامکان اسے طلاق دینے سے اجتناب کرے البتہ اگر کوئی عذر ہو جس کی وجہ سے میاں بیوی کیلئے حدود اللہ کو قائم رکھتے ہوئے اس رشتہ کو برقرار رکھنا مشکل ہو تو ایسی صورت میں سائل بیوی کو احسن طریقے سے طلاق دیکر اپنی زوجیت سے الگ بھی کرسکتا ہے،اور اس صورت میں امید ہیکہ سائل گناہ گار نہ ہوگا ۔
کمافى الهندية: (وأما وصفه) فهو أنه محظور نظرا إلى الأصل ومباح نظرا إلى الحاجة كذا في الكافي.(ج:١،ص:٣٤٨)
وفى الشامى: وَأَمَّا الطَّلَاقُ فَإِنَّ الْأَصْلَ فِيهِ الْحَظْرُ، بِمَعْنَى أَنَّهُ مَحْظُورٌ إلَّا لِعَارِضٍ يُبِيحُهُ، وَهُوَ مَعْنَى قَوْلِهِمْ الْأَصْلُ فِيهِ الْحَظْرُ وَالْإِبَاحَةُ لِلْحَاجَةِ إلَى الْخَلَاصِ(ج:٣،ص:٢٢٨)
وفى الهداية: فالأحسن أن يطلق الرجل امرأته تطليقة واحدة في طهر لم يجامعها فيه ويتركها حتى تنقضي عدتها.(ج:١،ص:٢٢١)
وفى الهندية:(وأما البدعي) فنوعان بدعي لمعنى يعود إلى العدد وبدعي لمعنى يعود إلى الوقت (فالذي) يعود إلى العدد أن يطلقها ثلاثًا في طهر واحد أو بكلمات متفرقة أو يجمع بين التطليقتين في طهر واحد بكلمة واحدة أو بكلمتين متفرقتين فإذا فعل ذلك وقع الطلاق وكان عاصيًا.(ج:١،ص:٣٤٩)