یہ پیغام مجھے آج صبح میرے ایک عزیز کی جانب سے موصول ہوا ہے۔ براہِ کرم اس سلسلے میں رہنمائی فرمائیں، نیز یہ بھی واضح فرما دیں کہ آیا طلاق واقع ہو چکی ہے یا نہیں؟ آپ کی رہنمائی کا منتظر رہوں گا۔ خیراندیش نوید چوہدری۔ شوہر کا بیوی کو نشے کی حالت میں یہ کہنا کہ "تم مجھ پر حرام ہو" یا "میری طرف سے تم فارغ ہو"۔ ایک بار نہیں بلکہ کئی بار کہنا۔ اور اکثر اوقات وہ سیدھا یہ بھی کہتے ہیں کہ "تمہیں آج میری طرف سے ایک طلاق ہو گئی ہے "۔ لیکن جب ہوش میں آتے ہیں ( یعنی نشہ اترتا ہے) تو سب بھول جاتے ہیں ۔ پھر اگلی بار دوبارہ نشے کی حالت میں کہتے ہیں کہ "آج تمہیں میری طرف سے ایک طلاق ہو گئی ہے "۔ لیکن ہوش میں آکر ان کو یہ یا درہتا ہے کہ ہاں ، میں نے ایسا کچھ کہا ہوگا ، بالکل انکار نہیں کرتے کہ انہیں یاد نہیں ۔ اور ایک یا دوبار بالکل ہوش و حواس میں بھی طلاق یا حرام کے الفاظ استعمال کیے ہیں ۔ اور کئی بار ہوش میں یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر فلاں کام ہوا تو تمہیں میری طرف سے ایک ، دویا تین طلاق ہو جائے گی ۔ اور وہ کام ناگزیر ہوتا ہے ، اور ہر بار ہو جاتا ہے۔ اور یہ سب نشے یا غصے میں صرف ایک بار نہیں کہا کہ کفارہ ادا کر دیا جائے یا رجوع کر لیا جائے ، بلکہ تقریبا آج سے دس پندرہ سال پہلے پہلی بار کہا تھا اور کسی نے سنجیدگی سے نہیں لیا ، اور آج تک جب جب نشے میں یا غصے میں یا ہوش میں ہوتے ہیں ، یہی الفاظ بار بار استعمال کرتے آئے ہیں ۔
واضح ہو کہ نشہ کی حالت میں بھی طلاق دینے سے شرعاً طلاق واقع ہو جاتی ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں مذکور شخص نے اگر واقعۃً مختلف اوقات میں بیوی کو مختلف الفاظ کے ذریعہ تین طلاقیں دیدی ہوں اور ان طلاقوں کے درمیانی عرصہ ( دورانِ عدت) میاں بیوی کی حیثیت سے رہتے رہے ہوں تو اس سے بیوی پرتین طلاقیں واقع ہوکرحرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے،اب رجوع نہیں ہوسکتا،اورحلالہ شرعیہ کےبغیرباہم عقدِنکاح بھی نہیں ہوسکتا ،لہذا میاں بیوی پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والا تعلق آپس میں ہر گز قائم نہ کریں ، وگرنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے، جبکہ عورت ایامِ عدت گزارنے کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
کما فی الھدایۃ: طلاق السکران واقع الخ (کتاب الطلاق، ج: 2، ص: 60، ط: البشری)۔
و فی الدر المختار: (ويقع طلاق كل زوج بالغ عاقل) ولو تقديرا بدائع، ليدخل السكران ( الی قولہ) (أو سكران) ولو بنبيذ أو حشيش أو أفيون أو بنج زجرا، وبه يفتى تصحيح القدوري الخ (رکن الطلاق، ج: 3، ص: 235-239-240، ط: سعید)۔
و فی رد المحتار: وبه ظهر أن المختار قولهما في جميع الأبواب فافهم. وبين في التحرير حكمه أنه إن كان سكره بطريق محرم لا يبطل تكليفه فتلزمه الأحكام وتصح عبارته من الطلاق والعتاق، والبيع والإقرار، وتزويج الصغار من كفء، والإقراض والاستقراض لأن العقل قائم، وإنما عرض فوات فهم الخطاب بمعصيته، فبقي في حق الإثم ووجوب القضاء، ويصح إسلامه كالمكره لإرادته لعدم القصد. وأما الهازل فإنما كفر مع عدم قصده لما يقول بالاستخفاف لأنه صدر منه عن قصد صحيح استخفافا بالدين بخلاف السكران (قوله بنبيذ) أي سواء كان سكره من الخمر أو الأشربة الأربعة المحرمة أو غيرها من الأشربة المتخذة من الحبوب والعسل عند محمد. قال في الفتح: وبقوله يفتى لأن السكر من كل شراب محرم. وفي البحر عن البزازية المختار في زماننا لزوم الحد ووقوع الطلاق. اهـ. وما في الخانية من تصحيح عدم الوقوع فهو مبني على قولهما من أن النبيذ حلال والمفتى به خلافه الخ (مطلب فی تعریف السکران و حکمہ، ج: 3، ص: 239، ط: سعید)۔
و فی الھندیۃ: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير ويشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز الخ (کتاب الطلاق، ج: 1، ص: 473، ط: ماجدیۃ)۔