کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ آج صبح ایک گھر یلو اختلاف کے دوران شدید غصے کی حالت میں ، میں نے اپنی زوجہ سے پشتو زبان میں دو مرتبہ یہ الفاظ " طلاق درکوم " کہے جس کا اردو مفہوم ہے " میں طلاق دیتا ہوں "۔اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ ان الفاظ کے کہنے سے شرعا کتنی طلاق واقع ہوئی ؟ آیا نکاح برقرار ہے یا ختم ہو چکا ہے ؟ اگر رجوع یا تجدید نکاح کی کوئی صورت ہے تو اس کی شرعی وضاحت بھی فرمادی جائے۔
صورت مسئولہ میں جب سائل نے گھریلو اختلاف کے دوران غصہ کی حالت میں اپنی بیوی کو مذکور الفاظ " طلاق درکوم " (میں طلاق دیتا ہوں ) دو مرتبہ کہہ دیئے تو اس سے اس کی بیوی پر دو طلاق جعی واقع ہوچکی ہیں جس کے بعد دوران عدت سائل کو رجوع کا اختیار حاصل ہے ۔ چنانچہ سائل اگر دوران عدت زبانی جیسے " میں رجوع کرتا ہوں " کہہ کر یا عملاً بیوی سے بوس و کنار یا میاں بیوی والا تعلق قائم کرکے رجوع کرلیتا ہے تو یہ رجوع درست ہوکر میاں بیوی کا نکاح حسب سابق برقرار رہے گا ،بصورت دیگر عدت میں رجوع نہ کرنے کی صورت میں یہ دو طلاقیں بائن ہوکر میاں بیوی کا نکاح ختم ہوجائے گا ،جس کے بعد میاں بیوی کا باہمی رضامندی سے ساتھ رہنے کے لئے باقاعدہ گواہان کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ باضابطہ ایجاب و قبول کرتے ہوئے تجدید نکاح لازم ہوگا ،بہر دو صورت سائل کو آئندہ کے لئے فقط ایک طلاق کا اختیار ہوگا ،اس لئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط چاہیئے ۔
کمافی الھندیة: (الفصل الأول في الطلاق الصريح) . وهو كأنت طالق ومطلقة وطلقتك وتقع واحدة رجعية وإن نوى الأكثر أو الإبانة أو لم ينو شيئا كذا في الكنز. اھ(1/354)-
وفیھاایضاً:الرجعة إبقاء النكاح على ما كان ما دامت في العدة كذا في التبيين وهي على ضربين: سني وبدعي (فالسني) أن يراجعها بالقول ويشهد على رجعتها شاهدين ويعلمها بذلك فإذا راجعها بالقول نحو أن يقول لها: راجعتك أو راجعت امرأتي ولم يشهد على ذلك أو أشهد ولم يعلمها بذلك فهو بدعي مخالف للسنة والرجعة صحيحة وإن راجعها بالفعل مثل أن يطأها أو يقبلها بشهوة أو ينظر إلى فرجها بشهوة فإنه يصير مراجعا عندنا إلا أنه يكره له ذلك ويستحب أن يراجعها بعد ذلك بالإشهاد كذا في الجوهرة النيرة.(. ألفاظ الرجعة صريح وكناية) (فالصريح) : راجعتك في حال خطابها أو راجعت امرأتي حال غيبتها وحضورها أيضا ومن الصريح ارتجعتك ورجعتك ورددتك وأمسكتك ومسكتك بمنزلة أمسكتك فهذه يصير مراجعا بها بلا نية.(والكناية) : أنت عندي كما كنت وأنت امرأتي فلا يصير مراجعا إلا بالنية كذا في فتح القدير. اھ(1/468)-