امامت کے دوران میں ایک آیت ’’ومن شر غاسق اذا وقب‘‘ بھول گیا، پہلی رکعت میں اور دوسری رکعت میں، میں نے اُسے صحیح بھی نہیں کیا اور آخر میں سورہ ناس پڑھ دی۔ مجھے جلدی بتائیں:
کیا مجھے سجدہ سہو کرنا چاہیے تھا؟
میری نماز مکمل ہوگئی یا مجھے لوٹانا پڑےگی؟
اور میں مقتدیوں کے ساتھ کیا کروں؟
آیت کے چھوٹنے سے نماز میں کوئی فساد نہیں آتا اور نہ ہی سجدہ سہو لازم ہوتا ہے،بلکہ نماز درست ادا ہوگئی ہے،لہذا نماز لوٹانے کی ضرورت نہیں ۔
ففی الفتاوى الهندية: (ومنها ذكر آية مكان آية) لو ذكر آية مكان آية إن وقف وقفا تاما ثم ابتدأ بآية أخرى أو ببعض آية لا تفسد (إلی قوله) أما إذا لم يقف ووصل - إن لم يغير المعنى - نحو أن يقرأ {إن الذين آمنوا وعملوا الصالحات} [الكهف: 107] فلهم جزاء الحسنى مكان قوله {كانت لهم جنات الفردوس نزلا} [الكهف: 107] لا تفسد. اھ (1/ 81)!