میری شادی کو تقریباً 15 سال ہو چکے ہیں اور ہماری ایک 8 سال کی بیٹی ہے، مختلف حالات کی وجہ سے میرے اور میری بیوی کے درمیان رابطے کا خلا پیدا ہو گیا، میں اپنے بوڑھے والدین کی خدمت اور ان کی فکر میں بہت زیادہ مصروف رہا، جس کی وجہ سے میں نے اپنی ازدواجی زندگی کو نظر انداز کیا، حالانکہ میری بیوی نے اس دوران میرا بہت ساتھ دیا، بعض اوقات میں نے اپنے رشتے کو مناسب توجہ نہیں دی،دباؤ اور بعض اوقات سخت رویے کی وجہ سے میں نے سکون حاصل کرنے کے لیے دوسری عورتوں سے چیٹنگ کرنے کی غلطی کی جسے میں خود بھی غلط سمجھتا ہوں، میری بیوی نے بھی اپنے ایک سابق کلاس فیلو سے چیٹنگ شروع کر دی، جسے وہ شادی سے پہلے پسند کرتی تھی اور اس سے شادی کرنا چاہتی تھی، لیکن دونوں کے والدین نے انکار کر دیا، جس کے بعد ہماری شادی ہوئی،اس نے وعدہ کیا کہ وہ دوبارہ ایسا نہیں کرے گی اور وہ اب بھی میرا بہت خیال رکھتی ہے،اب ہم سعودی عرب میں رہتے ہیں، لیکن میری بیوی علیحدگی کا مطالبہ کر رہی ہے کیونکہ وہ محسوس کرتی ہے کہ جب میں اس کے قریب ہوتا ہوں تو وہ بوجھ محسوس کرتی ہے اور وہ اپنے شوہر کے حقوق چاہتی ہے، اس صورتِ حال کے نتیجے میں میں خود کو بہت تھکا ہوا محسوس کرتا ہوں اور دوبارہ خود کو دوسری چیزوں میں مشغول کر لیتا ہوں، اس نے یہ بھی بتایا کہ پچھلے ایک سال سے وہ استخارہ کر رہی ہے اور ہر بار اسے علیحدگی اور غیر صحت مند عادات کو برقرار رکھنے کی علامت ملتی ہے، میں اپنا گھر نہیں توڑنا چاہتا ، مجھے کیا کرنا چاہئیے؟
واضح ہو کہ شریعت نے میاں بیوی کوایک دوسرے کے حقوق ادا کرتے ہوئے اچھی زندگی بسر کرنے کی تعلیم دی ہے۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل کا والدین کی خدمت کو اور بنیاد بنا کر اپنی ازدواجی زندگی کوبالکلیہ نظر انداز کرنا اس کی کوتاہی تھی جس کی وجہ سے سوال میں ذکر کردہ مسائل کا سامنا کرنا پڑا، اسی طرح سوال میں میاں بیوی دونوں کاکسی غیر محرم سے تعلقات استوار کرنا شرعاً ناجائز اور حرام ہے، جس پر میاں بیوی دونوں سخت گناہگار ہوئے ہیں، لہٰذا دونوں کو اللہ تعالیٰ کے حضور بصدقِ دل توبہ و استغفار کرنااور آئندہ کے لیے ان حرام امور سے اجتناب کرنا لازم ہے ،جبکہ سائل اور اس کی بیوی کو چاہئیے کہ ایک دوسرے کی کمی کوتاہیوں کو نظر انداز کرکے اپنے گھر کو بسانے کی کوشش کریں، امید ہے کہ حرام کاموں سے بچنے اور ایک دوسرے کے حقوق کی رعایت رکھنے سے دونوں کی زندگیوں میں سکون اور خوشی قائم ہوگی۔
كماقال لله تعالیٰ في القرآن المجيد: هُنَّ لِبَاسٞ لَّكُمۡ وَأَنتُمۡ لِبَاسٞ لَّهُنَّ(سورة البقره:١٨٧)
وقال للہ تعالیٰ فی مقام اٰخر:وَلَا تَعۡضُلُوهُنَّ لِتَذۡهَبُواْ بِبَعۡضِ مَآ ءَاتَيۡتُمُوهُنَّ إِلَّآ أَن يَأۡتِينَ بِفَٰحِشَةٖ مُّبَيِّنَةٖۚ وَعَاشِرُوهُنَّ بِٱلۡمَعۡرُوفِۚ فَإِن كَرِهۡتُمُوهُنَّ فَعَسَىٰٓ أَن تَكۡرَهُواْ شَيۡـٔٗا وَيَجۡعَلَ ٱللَّهُ فِيهِ خَيۡرٗا كَثِيرٗا(سورة النساء:١٩)