اچھا ایک شرعی مسئلہ بتائیں وہ یہ ہے کہ اگر بیوی بھی نہ سن رہی ہو اور نہ بیوی موجود ہو وہ کسی اور جگہ پہ ہو اس کا خاوند کسی اور جگہ پہ ہو وہ وہاں پر بیٹھ کر اس کو الفاظ بھی یاد نہ ہو صرف اتنا یاد ہو کہ اس نے طلاق کا کچھ کہا تھا لیکن یہ یاد نہیں ہے کہ کتنی بار کہا تھا اور کیا نام لے کر کہا تھا تو کیا اس طرح طلاق ہو جائےگی، لیکن ان باتوں میں شک ہے کیا اس طرح طلاق ہو جائے گی
واضح رہے کہ وقوع ِطلاق کے لئے بیوی کا سامنے موجود ہونا یا اس کا الفاظ طلاق خود سننا شرط اور ضروری نہیں ،بلکہ طلاق کی نسبت بیوی کی طرف کر لینا ہی کا فی ہو تا ہے ،مثلاً اگر کوئی بیوی کی غیر موجودگی میں کہہ دیے کہ " میری بیوی کو طلاق" یا اپنے کسی بچے کے نام سے کہ"فلان کی ماں کو طلاق "اسی طرح بیوی کی غیر موجودگی میں بیوی کا نام لیکر مثلاً "فاطمہ کو طلاق "تو ان تمام صورتوں میں بیوی کی طرف طلاق کی صریح نسبت پائی جانے کی وجہ سے طلاق واقع ہو گی ، اب اگر سائل کو اپنے الفاظ یقینی طور پر یاد نہ ہوں، محض شک ہو اور کسی ایک جانب غالب گمان نہ ہو تو ایسی صورت میں محض شک کی بناء پر سائل کے نکاح پر کوئی فرق نہیں پڑے گا، لہذا سائل اور اس کی بیوی حسبِ سابق میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کر سکتے ہیں۔ تاہم آئندہ اس طرح کے الفاظ سے بھی اجتناب لازم ہے، البتہ اس کے علاوہ کوئی صورت ہو تو اس کی مکمل وضاحت کر کے سوال دوبارہ بھیج دیا جائے تو انشاءاللہ حکم شرعی سے بھی آگاہ کردیا جائے گا۔
وفی الفتاوى الهندية: ولو قال امرأته الحبشية طالق ولا نية له في طلاق امرأته وامرأته ليست بحبشية لا يقع عليها وعلى هذا إذا سمى بغير اسمها ولا نية له في طلاق امرأته فإن نوى طلاق امرأته في هذه الوجوه طلقت امرأته كذا في الذخيرة اھ (1:ج/ص: 358)
و في مراقي الفلاح لو أجرى الطلاق على قلبه وحرك لسانه من غير تلفظ يسمع لا يقع وإن صحح الحروف وقال الكرخي القراءة تصحيح الحروف وإن لم يكن صوت بحيث يسمع والصحيح خلافه قاله المحقق الكمال ابن الهمام رحمه الله تعالی(ص؛ 84 )
و في البحر الرائق: وفي المحيط الأصل أنه متى وجدت النسبة وغير اسمها بغيره لا يقع لأن التعريف لا يحصل بالتسمية متى بدل اسمها لأن بذلك الاسم تكون امرأة أجنبية اھ (ج:3 ص :273 )