محترم مفتی صاحب، السلام علیکم،
میرا مسئلہ یہ ہے کہ میری شادی کو تقریباً 3 سال ہو چکے ہیں اور میرا ایک بیٹا ہے جو 2 سال کا ہے۔ شادی کے بعد میں اپنے شوہر کے ساتھ جوائنٹ فیملی میں رہتی رہی جہاں میرے شوہر کے ماں باپ اور 4 بہن بھائی رہتے تھے۔ مجھے صرف ایک کمرہ دیا گیا تھا اور اس کمرے کو لاک کرنے کی اجازت نہیں تھی، جوائنٹ فیملی میں رہنے کے دوران مجھے بہت زیادہ پرائیویسی کے مسائل کا سامنا رہا۔ میں جاب کرتی تھی اور جب آفس سے گھر آتی تھی تو میرے جیٹھ اکثر میرے کمرے میں بیٹھے ہوتے تھے۔ میری جیٹھانی بغیر ناک کیے صبح 5 بجے میرے کمرے میں گھس جاتی تھی۔ اس وجہ سے مجھے سخت ذہنی تکلیف ہوتی تھی۔ میں نے اپنے شوہر سے اس حوالے سے کئی مرتبہ بات کی ،لیکن انہوں نے اپنی فیملی کو منع نہیں کیا، ان مسائل کی وجہ سے ہمارے درمیان لڑائی ہوتی رہی اور کئی مرتبہ میرے شوہر نے مجھ پر ہاتھ بھی اٹھایا۔ میں نے یہ بات کسی کو نہیں بتائی اور صبر کرتی رہی۔ پھر اللہ کے فضل سے میرا بیٹا پیدا ہوا، لیکن حالات بہتر نہیں ہوئے۔ میرے والد کا انتقال ہو چکا ہے اور ان کا ایک گھر وراثت میں مجھے اور میری بہن کو ملا۔ میں نے اپنے شوہر کے ساتھ مشورہ کرکے اس گھر میں شفٹ کر لیا جہاں ہم کچھ عرصے تک سکون سے رہے۔ لیکن میرے شوہر کی فیملی کا انٹرفیئر وہاں بھی جاری رہا اور آخرکار ایک لڑائی کے بعد میرے شوہر گھر چھوڑ کر چلے گئے، جبکہ ہم وہاں تقریباً 1.5 سال سے رہ رہے تھے۔ اب میرے شوہر کا کہنا ہے کہ میں واپس ان کے والدین کے گھر آ کر ایک کمرے میں جوائنٹ فیملی کے ساتھ رہوں۔ اگر میں واپس نہ آئی تو وہ مجھے طلاق دینے کی دھمکی دے رہے ہیں اور اس سلسلے میں کورٹ بھی چلے گئے ہیں۔ میں نے ان سے یہ بھی کہا کہ وہ اپنے ایریا میں میرے لیے رینٹ کا گھر لے لیں، میں اپنا سامان لے کر وہاں آ جاؤں گی اور ضرورت پڑنے پر اپنی جاب چھوڑنے کے لیے بھی تیار ہوں، لیکن وہ اس پر راضی نہیں، میرے شوہر نہ تو میرے وراثتی گھر میں رہنا چاہتے ہیں اور نہ ہی میرے لیے الگ گھر لینا چاہتے ہیں، بلکہ صرف اپنے گھر میں ایک کمرے میں رہنے پر زور دے رہے ہیں۔ مجھے شدید خوف ہے کہ اگر میں واپس اس گھر میں گئی تو میری جان، عزت اور صحت کو نقصان پہنچ سکتا ہے، کیونکہ پہلے بھی مجھے وہاں مل کر بہت ٹارچر کیا گیا تھا۔
اس صورتِ حال میں میں یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ کیا شریعت کے مطابق مجھ پر لازم ہے کہ میں دوبارہ جوائنٹ فیملی میں ایک کمرے کے گھر میں جا کر رہوں، یا پھر مجھے الگ اور محفوظ گھر کا مطالبہ کرنے کا حق حاصل ہے۔ اگر میں اپنی حفاظت اور سکون کی بنیاد پر واپس جانے سے انکار کروں تو کیا میں ناشزہ (نافرمان بیوی) کے زمرے میں آؤں گی؟ اور اگر میرے شوہر اس بنیاد پر مجھے طلاق دیتے ہیں تو اس کا شرعی حکم کیا ہوگا؟ براہِ مہربانی قرآن اور سنت کی روشنی میں رہنمائی فرما دیں۔
واضح ہو کہ نکاح کے بعد خاوند کے ذمے اپنی بیوی کو عرف کے مطابق ایسی رہائش دینا شرعا لازم ہے جہاں اس کی جان، مال اور عزت محفوظ ہو اور اس کی خلوت اور پرائیویسی قائم رہ سکے، چنانچہ صورت مسئولہ میں سائلہ کو جوائنٹ فیملی میں دیا گیا کمرہ غیر محفوظ ہو اور اس میں نامحرم کا بلا اجازت آنا جانا ہو جس سے سائلہ کو ذہنی یا جسمانی اذیت پہنچتی ہو تو ایسی صورت میں سائلہ کا علیحدہ اور محفوظ رہائش کا مطالبہ کرنا جائز اور معقول ہے، لہذا اگر سابقہ گھر میں رہنے سے واقعی سائلہ کی جان عزت و عصمت کو خطرہ لاحق ہو تو اس گھر میں واپسی سے انکار پر وہ ناشزہ شمار نہ ہوگی، اور اس بات کو بنیاد بنا کر طلاق دینے سے شوہر گنہگار اور عند اللہ جوابدہ ہوگا، تاہم سائلہ اور اس کے شوہر کو چاہیے کہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کرے اور خاندان کے بڑوں کی وساطت سے مصالحت کی کوشش کریں تاکہ گھر ٹوٹنے سے محفوظ رکھ سکے۔
كما في القرآن الكريم: ﴿وَعَلَى ٱلۡمَوۡلُودِ لَهُۥ رِزۡقُهُنَّ وَكِسۡوَتُهُنَّ بِٱلۡمَعۡرُوفِۚ ﴾ [البقرة: 233]
وفيه أيضاَ: ﴿أَسۡكِنُوهُنَّ مِنۡ حَيۡثُ سَكَنتُم مِّن وُجۡدِكُمۡ وَلَا تُضَآرُّوهُنَّ لِتُضَيِّقُواْ عَلَيۡهِنَّۚ ﴾ [الطلاق: 6]
وفي الدر المختار: (وكذا تجب لها السكنى في بيت خال عن أهله) سوى طفله الذي لا يفهم الجماع وأمته وأم ولده (وأهلها) ولو ولدها من غيره (بقدر حالهما) كطعام وكسوة وبيت منفرد من دار له غلق. زاد في الاختيار والعيني: ومرافق، ومراده لزوم كنيف ومطبخ، وينبغي الإفتاء به بحر (كفاها) لحصول المقصود هداية اهـ
وفي رد المحتار: تحت قوله: (خال عن أهله إلخ) لأنها تتضرر بمشاركة غيرها فيه؛ لأنها لا تأمن على متاعها ويمنعها ذلك من المعاشرة مع زوجها ومن الاستمتاع إلا أن تختار ذلك؛ لأنها رضيت بانتقاص حقها هداية (الى قوله) (قوله وأهلها) أي له منعهم من السكنى معها في بيته سواء كان ملكا له أو إجارة أو عارية (الى قوله) (قوله زاد في الاختيار والعيني) ومثله في الزيلعي، وأقره في الفتح بعدما نقل عن القاضي الإمام أنه إذا كان له غلق يخصه وكان الخلاء مشتركا ليس لها أن تطالبه بمسكن آخر اهـ [كتاب الطلاق، باب النفقة، ج:3 ص:599، 600 ط: سعيد)]
وفي الشامية: (قوله ولها النفقة بعد المنع) أي المنع لأجل قبض المهر، ويشمل المنع من الوطء وهي في بيته وهو ظاهر، وكذا لو امتنعت من النقلة إلى بيته فلها النفقة كما يأتي في بابها، وكذا لو سافرت اهـ [كتاب النكاح، باب المهر، مطلب في منع الزوجة نفسها لقبض المهر، ج:3 ص:145 ط: سعيد)]
وفيه أيضاً: وأما الطلاق فإن الأصل فيه الحظر، بمعنى أنه محظور إلا لعارض يبيحه، وهو معنى قولهم الأصل فيه الحظر والإباحة للحاجة إلى الخلاص، فإذا كان بلا سبب أصلا لم يكن فيه حاجة إلى الخلاص بل يكون حمقا وسفاهة رأي ومجرد كفران النعمة وإخلاص الإيذاء بها وبأهلها وأولادها اهـ [كتاب الطلاق، ج:3 ص: 228ط: سعيد)]